خطبات محمود (جلد 37) — Page 283
خطبات محمود جلد نمبر 37 283 $1956 شروع کر دی۔پولیس کے افسروں کو اس بات کا علم تھا کہ یہ مسجد اس نے بنوائی ہے اور اب اس کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا جا رہا ہے۔چنانچہ انہیں یہ بات بُری معلوم ہوئی اور انہوں نے مسلمانوں کو سمجھایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اس شخص کو نماز پڑھنے سے روک رہے ہو جس نے خود یہ مسجد بنوائی ہے۔اب جاؤ اور اس سے معافی مانگو۔چنانچہ وہ آئے اور انہوں نے معافی مانگی مگر اس نے پھر یہی کہا کہ جو مسجد تمہاری ہے خدا کی نہیں ہے اُس مسجد میں میں نماز پڑھنے کے لیے تیار نہیں۔اس پر دوسری دفعہ پھر تمام مسلمان اور پولیس کے بڑے بڑے افسر اس احمدی کے پاس گئے اور اسے کہنے لگے کہ ہم سارے مل کر آپ سے معافی مانگتے ہیں۔آپ چلیں اور مسجد میں نماز پڑھیں۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے جہاں بھی ہماری جماعت کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور وہاں مسجدیں بنتی ہیں اُن مسجدوں کے بنانے میں زیادہ تر حصہ ہماری جماعت کے افراد کا ہی ہوتا ت پس بیشک پہلے بھی ہماری جماعت کے افراد مساجد کی تعمیر میں حصہ لیتے رہتے ہیں لیکن اگر انفرادی طور پر کوئی شخص طعنہ دے تو اُسے ہماری جماعت کے دوست کہہ دیا کریں کہ جب تم کوئی مسجد بنانے لگو تو ہم سے چندہ لے لینا۔اس طرح فرد کو بھی طعنہ نہیں ملے گا اور جماعت کو بھی نہیں ملے گا۔وہ کہے گا میں یہ چندہ تم سے ذاتی طور پر اپنی دوستی اور محبت کی بناء مانگ رہا ہوں اور دوسرا شخص بھی سمجھے گا کہ اس نے دوستی کے رنگ میں مجھ سے ایک چندہ مانگا ہے اور ساتھ ہی کہہ دیا ہے کہ اس کا بدلہ مجھ سے مانگنا میں تمہیں دینے کے لیے تیار ہوں۔اس لیے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔غرض اگر ہماری جماعت کے دوست اس طریق پر عمل کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ چار پانچ بلکہ چھ لاکھ روپیہ تک سالانہ اکٹھا ہوسکتا۔اور ہماری جماعت ہر سال دو دو مسجدیں بھی یورپ میں بنا سکتی ہے۔ہے یورپ کے جو منظم اور مشہور ملک ہیں وہ ہیں بائیس ہی ہیں۔لندن میں ہم پہلے ہی مسجد بنا چکے ہیں، ہالینڈ میں بھی بنا چکے ہیں، نیورمبرگ میں مسجد بنانے کی تجویز ہے۔رہ گیا فرانس، سوئٹزر لینڈ، زیکو سلویکیا، آسٹریلیا اور اٹلی۔یہ پانچ ملک ہیں جن میں ہم نے مساجد بنانی ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اگر ہمارے احمدی دوست عقل سے کام کریں دوست