خطبات محمود (جلد 37) — Page 242
$1956 242 خطبات محمود جلد نمبر 37 تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہالینڈ کی مسجد پر اتنا خرچ ہوا ہے حالانکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہالینڈ میں آج مسجد بنی ہے؟ کیا تمہیں پتا نہیں تھا کہ مسجد بنے گی تو روپیہ بھی خرچ ہوگا ؟ یا تمہارا یہ خیال تھا کہ ہالینڈ کے انجنیئر اور راج اور معمار سب مفت کام کریں گے؟ یا تم یہ سمجھتے تھے کہ وہ لکڑی مفت دیں گے؟ یا سیمنٹ کی ضرورت ہو گی تو وہ کوئی قیمت وصول نہیں کریں گے ؟ اگر تمہیں پتا ہی تھا کہ یہ اخراجات ہوں گے تو تم نے کیوں اُسی وقت سے کام شروع نہ کر دیا اور کیوں روپیہ کے جمع کرنے کی فکر نہ کی؟ مگر بجائے اس کے کہ وہ روپیہ جمع کرنے کی فکر کرتے وہ چُپ کر کے بیٹھے رہے۔یہاں تک کہ مجھے بھی نہیں بتایا کہ جو تم روپیہ جمع کر کے آئے تھے اُس کا بھی ہم نے بیڑا غرق کر دیا ہے۔آخر انسان جس کی بیعت کرتا ہے اُس کے متعلق اُسے یہ بھی کی احساس ہوتا ہے کہ میں کوئی ایسی بات نہ کروں جس سے اُسے تکلیف ہو۔مگر بجائے اس کے کہ وہ مجھے تشویش اور فکر سے بچاتے انہوں نے چاہا کہ اسے موت کے قریب کر کے جلدی قبر میں پھینک دو تا کہ یہ مصیبت ہمارے سر سے ٹلے۔اب تو یہ روز روز ہم سے پوچھتا ہے کہ تم نے دین کا فلاں کام کیوں نہیں کیا، فلاں کام کیوں نہیں کیا۔یہ مر جائے گا تو ہم آزاد ہو جائیں گے اور پھر ہمیں کوئی پروا نہیں ہوگی۔اب لکھتے ہیں کہ ہمارے لیے دعا کریں ہمارا دل اس تصور سے دُکھا جا رہا ہے کہ کہیں آپ کے منہ سے ہمارے لیے بددعا نہ نکل جائے۔مگر سوال یہ ہے کہ تمہارے لیے دعا طرح نکلے۔کیا تم نے خدا کا گھر آباد کر دیا ہے؟ یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام تم نے بلند کر دیا ہے؟ اگر تم نے کوشش یہ کی ہے کہ تمہاری اس غفلت کے نتیجہ میں بیرونی مشن بند ہو جائیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام یورپ میں نہ پھیلے تو خدا کے گھر کو اُجاڑنے والے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی بلندی میں روک ڈالنے والے کے لیے خواہ میں اپنے نفس کو کتنا بھی روکوں نکلے گی تو بددعا ہی۔چاہے ایسی حالت میں بھی میں اپنے نفس کو روکوں اور یہی کہوں کہ الہی! یہ تیرے کمزور بندے ہیں تو ان پر رحم فرما۔مگر دل سے تو بددعا ہی نکلے گی کیونکہ جب نظر یہ آتا ہے کہ روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے ایک سال کے اندراندر ہمیں یورپ کے سارے مشنوں کو ختم کرنا پڑے گا تو دعا کس طرح