خطبات محمود (جلد 37) — Page 243
$1956 243 خطبات محمود جلد نمبر 37 نکل سکتی ہے۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ خود غیر معمولی حالات پیدا کر دے اور پھر باہر کی جماعتوں کو توفیق عطا فرما دے کہ وہ اس غرض کے لیے ہمیں روپیہ بھجوا دیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں یہاں کی جماعتوں کا بھی قصور ہے۔جب مساجد کی تعمیر کے لیے میں نے چندہ کی تحریک کی تو ہماری ساری کی ساری مجلس شورای کھڑی ہو گئی اور لوگوں نے کہا کہ یہ بڑی آسان ترکیب ہے اس میں ہم ضرور حصہ لیں گے۔اُس وقت ہمارا اندازہ یہ تھا کہ اگر جماعتیں اس میں پوری طرح حصہ لیں تو ایک لاکھ ستر ہزار روپیہ سالانہ اکٹھا ہو سکتا ہے مگر رپورٹ آئی ہے کہ صرف سو ڈیڑھ سو ماہوار آ رہا ہے۔گویا اس طرح سال بھر میں صرف بارہ سو روپیہ آتا ہے۔اگر سال میں بارہ سو روپیہ آئے تو ایک مسجد بنانے کے لیے ہمیں قریباً پانچ سو سال کا عرصہ درکار ہو گا۔اور اگر پانچ سو سال میں ہم نے ایک مسجد بنائی تو دنیا میں اسلام کی تبلیغ کس طرح ہو گی۔حالانکہ دنیا اس وقت اسلام کی پیاسی ہے اور وہ ہم سے مبلغین اور لٹریچر کا مطالبہ کر رہی ہے۔کل ہی ایک ایسے ملک سے چٹھی آئی ہے جہاں مسلمانوں کی بڑی بھاری تعداد ہے۔وہاں ایک شخص نے قرآن کریم کا دیباچہ جو میرا لکھا ہوا ہے جرمنی میں پڑھا اور پھر اُس نے لکھا کہ میں نے آپ کا دیباچہ پڑھا ہے اور میں اس سے بڑا متاثر ہوا ہوں۔اگر ہماری زبان میں آپ اسے شائع کر دیں تو ہمارے ملک میں ہیں لاکھ مسلمان ہیں۔ان کے متعلق آپ سمجھ لیں کہ وہ فوراً آپ کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔مگر سوال یہ ہے کہ جو کام شروع ہیں اگر وہی پورے نہ ہورہے ہوں تو ہم نئے کام کس طرح شروع کر سکتے ہیں۔ورنہ دنیا میں ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جن سے یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کئی ممالک جن میں اس وقت عیسائیت کو غلبہ حاصل ہے اگر ان میں تبلیغ کی جائے اور لٹریچر پھیلا یا جائے تو وہ بہت جلد احمدی ہو جائیں گے۔گو مسلمان علماء کے لیے یہ بڑے افسوس کی بات ہو گی۔چنانچہ آج ہی کراچی سے چٹھی آئی ہے کہ سپین نے جو تبلیغ اسلام کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس پر وہاں کے علماء نے لکھا ہے کہ یہ بڑا نیک کام ہے اور ہمیں تعریف کرنی چاہیے کہ وہ اسلامی مبلغ کو اپنے ملک سے نکال رہے ہیں۔مگر ان باتوں سے کچھ نہیں بن سکتا۔اسلام نے دنیا میں پھیل کر رہنا ہے۔چاہے مسلمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کرسی کو کھینچیں یا عیسائی