خطبات محمود (جلد 37) — Page 233
$1956 233 خطبات محمود جلد نمبر 37 پیسے نہیں ہوتے بلکہ اس کی قیمت نفس کی قربانی ہوتی ہے۔اسی طرح دعائیں اور درود اس کی قیمت سمجھے جاتے ہیں۔غرض میں نے دیکھا ہے کہ یہ شر ہماری جماعت میں سے بعض کے لیے بڑی خیر اور برکت کا موجب ہوا ہے۔اگر انہوں نے مستقل طور پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو قائم رکھا تو جیسے ہمارے سلسلہ میں بیسیوں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کو سچی خوا ہیں آتی اور الہامات ہوتے ہیں اسی طرح ان سے بھی فیض اور برکت کا سلسلہ جاری ہو جائے گا اور وہ جماعت کی روحانی زندگی کا موجب بنیں گے۔حقیقت یہی ہے کہ جب تک ایسے لوگ قائم رہتے ہیں جماعتیں زندہ رہتی ہیں اور خدا تعالیٰ سے ملنے اور اس سے تعلق پیدا کرنے کی تڑپ دلوں میں تازہ رہتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھ لو آپ اس امر پر کتنا زور دیا کرتے تھے کہ پرانے نبیوں کی باتیں اب قصوں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔اگر تم تازہ نشانات دیکھنا کی چاہتے ہو تو میرے پاس آؤ اور میرے نشانات کو دیکھو۔2 اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لوگ نئے نشانات کے محتاج تھے تو اب بھی محتاج ہیں۔اور اگر ایسے نوجوان ہماری جماعت میں ترقی کرتے چلے جائیں اور وہ بیسیوں سے سینکڑوں اور سینکڑوں سے ہزاروں ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ماسٹر عبدالرحمان صاحب جالندھری کی یہ عادت ہوا کرتی تھی کہ ذرا کسی آریہ یا اور کسی مخالف سے بات ہوتی تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نقل میں بڑی دلیری سے کہہ دیتے کہ اگر تمہیں اسلام کی صداقت میں شبہ ہے تو آؤ اور مجھ سے شرط کر لو۔اگر پندرہ دن کے اندر اندر مجھے کوئی الہام ہوا او اور وہ پورا ہو گیا تو تمہیں مسلمان ہونا پڑے گا اور پھر اشتہار لکھ کر اُس کی دکان پر لگا دیتے۔چنانچہ کئی دفعہ اُن کا الہام پورا ہو جاتا اور پھر وہ آریہ اُن سے چھپتا پھرتا کہ اب یہ میرے پیچھے پڑ جائیں گے اور کہیں گے کہ مسلمان ہو جاؤ۔تو اگر یہ نمونے قائم رہیں تو غیر مذاہب پر ہمیشہ کے لیے اسلام اور احمدیت کی فوقیت ثابت ہو سکتی ہے۔اور اگر یہ نمونے نہ رہیں یا ہماری جماعت کے دوست اس عارضی دھگا کو جو میری بیماری کی وجہ سے انہیں پہنچا ہے