خطبات محمود (جلد 37) — Page 234
$1956 234 خطبات محمود جلد نمبر 37 پنی مستقل نیکی اور توجہ الی اللہ کا ذریعہ نہ بنا لیں تو ہو سکتا ہے کہ اس میں وقفہ پڑ جائے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وقفہ پڑا اور اسلام لوگوں کو صرف ایک قصہ نظر آنے لگا۔لیکن اگر انہوں نے اس انعام کو مستقل بنا لیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے قیامت تک سلسلہ برکات جاری رہے گا۔اور ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے تک یہ سلسلہ اُسی طرح پہنچے گا جیسے بچپن میں ہم کھیلا کرتے تھے تو اینٹوں کی ایک لمبی قطار کھڑی کر دیتے تھے۔پھر ایک اینٹ کو دھکا دیتے تو وہ دوسری پر گرتی، وہ تیسری پر گرتی اور اس طرح سو دوسو مینٹیں جو ایک قطار میں کھڑی ہوتی تھیں گرتی چلی جاتی تھیں۔اگر ہمارے نوجوانوں میں بھی یہ روح قائم رہے اور پھر ان سے اگلے نوجوانوں میں بھی یہی روح پیدا ہو جائے اور پھر ان سے اگلوں میں یہ روح منتقل ہو جائے تو قیامت تک ہماری جماعت میں رویا وکشوف اور الہامات کا سلسلہ جاری رہے گا اور سارا ثواب اُن نوجوانوں کو ملے گا جو اس سلسلہ کو شروع کرنے والے ہوں گے اور ہمیشہ ہمیش کے لیے اسلام دنیا میں سربلند ہوتا چلا جائے گا۔دیکھو ! عیسائیت کتنا ناقص مذہب ہے مگر پچھلے دنوں عیسائیوں کا ایک وفد امریکہ۔آیا جو لوگوں سے کہتا پھرتا تھا کہ آؤ اور ہم سے دعائیں کراؤ۔ہماری دعاؤں سے مریض اچھے ہو جاتے ہیں۔چونکہ کئی وہمی ایسے ہوتے ہیں جنہیں اگر کہہ دیا جائے کہ تم اچھے ہو جاؤ گے تو وہ بھی کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہمیں بڑا فائدہ ہوا۔اس لیے انہوں نے اس سے فائدہ اُٹھانا شروع کر دیا۔حالانکہ قبولیت دعا کا اصل معیار وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیش فرمایا کرتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ سو دو سو ایسے مریض لے لیے جائیں جو شدید امراض میں مبتلا ہوں یا جنہیں ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دیا ہو اور پھر قرعہ کے ذریعہ اُن کو آپس میں تقسیم کر لیا جائے اور اُن کی شفاء کے لیے دعا کی جائے۔پھر جس کی دعا سے زیادہ مریض اچھے ہو جائیں وہ سچا سمجھا جائے۔لیکن یہ کوئی طریق نہیں کہ ایک شخص کو بلایا اور اُسے کہہ دیا اچھے ہو گئے ہو۔کیونکہ کئی وہمی طبائع ہوتی ہیں وہ صرف اتنی بات سے ہی کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہمیں بڑا فائدہ ہوا۔پس کسی مذہب کی صداقت اور راستبازی معلوم کرنے کا صحیح طریق یہی ہے کہ ڈاکٹروں کے لاعلاج قرار دیئے ہوئے مریضوں کو قرعہ اندازی کے ذریعہ