خطبات محمود (جلد 37) — Page 197
خطبات محمود جلد نمبر 37 197 $1956 کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں مگر یہاں پہنچنے پر چونکہ سخت سردی تھی طبیعت پھر خراب ہو گئی۔گولوگ کہتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد سردی کی یہ کیفیت جاتی رہے گی اور موسم اچھا ہو جائے گا۔چنانچہ آج ویسی سردی نہیں اور دھوپ بھی نکلی ہوئی ہے۔مگر میری طبیعت پر سے ابھی سردی کے حملہ کا اثر گیا نہیں۔بہر حال اب تو ہم آگئے ہیں اور ہمیں کچھ نہ کچھ برداشت کرنا ہی پڑے گا۔پھر ممکن ہے جیسا کہ دوستوں کا خیال ہے مئی میں سردی کم ہو جائے اور طبیعت ٹھیک ہو جائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ محض ہمارا انعام ہے کہ ہم نے لوگوں کے دلوں میں تیری محبت پیدا کر دی ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پیدا کر دی ہے۔اگر یہ انعام ہماری طرف سے نہ ہوتا تو خواہ تم کتنا بھی خرچ کرتے لوگوں کے قلوب میں ایسی محبت پیدا نہ کر سکتے۔1 یہ آیت بتاتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کا محبت رکھنا یا آپ کی وفات کے بعد جو بھی اسلام کا مرکز ہو اس سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے۔اسی طرح بھائیوں بھائیوں کی جو آپس میں محبت ہے یہ بھی انسان کے ایمان کی علامت ہے اور یہ کہ یہ محبت محض اللہ تعالیٰ کے دین سے پیدا ہوتی ہے دنیوی اموال سے پیدا نہیں ہوتی۔اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا کر کے اور پھر ایک مرکز بنا کر ایک نئے سرے سے اس آیت پر عمل کرنے کا ہماری جماعت کے لیے موقع پیدا کر دیا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ جن لوگوں کو اس پر عمل کرنے کا موقع ملتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوتے ہیں۔مجھے یاد ہے 1953 ء میں جب فسادات ہوئے تو بعض احمدی دوسرے احمدیوں کی خبر لینے کے لیے پچاس پچاس میل تک خطرہ کے علاقہ میں سے گزر کر گئے اور انہوں نے ی یوں کی مدد کی۔ایک عورت ہمارے پاس سیالکوٹ کے علاقہ سے آئی اور اس نے بتایا کہ ہمارے گاؤں میں دو تین احمدی ہیں جن کو لوگ باہر نکلنے نہیں دیتے اور اگر نکلیں تو ان کو مارتے ہیں۔آخر میں نے سوچا کہ میں خود ان کے حالات سے آپ کو اطلاع دوں۔چنانچہ میں پیدل چل کر سیالکوٹ پہنچی اور پھر سیالکوٹ سے ربوہ آئی۔اِس پر میں نے اُسی وقت ایک قافلہ