خطبات محمود (جلد 37) — Page 198
$1956 198 خطبات محمود جلد نمبر 37 تیار کیا جس میں کچھ ربوہ کے دوست تھے اور کچھ باہر کے۔اور میں نے انہیں کہا کہ جاؤ اور ان دوستوں کی خبر لو۔اسی طرح سیالکوٹ کی جماعت سے بھی کہو کہ وہ ان کا خیال رکھے۔اس یہ اس باہمی محبت کا ہی نتیجہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں پیدا کر دی ہے۔بظاہر یہ ایک معمولی چیز نظر آتی ہے لیکن اس کے اثرات بڑے بھاری ہوتے ہیں۔پھر یہی نہیں کہ احمدیوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پائی جاتی ہے بلکہ غیر احمدیوں میں بھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ ان کا ایک طبقہ تو احمدیوں کو مارتا پھرتا تھا اور دوسرا طبقہ احمدیوں کی جانیں بچانے کے لیے آگے آ جاتا تھا۔لاہور میں ہی ایک گھر پر غیر احمدی حملہ کر کے آگئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم نے اس مکان کو جلا دینا اور احمدیوں کو مار ڈالنا ہے۔اس پر ایک غیر احمدی عورت اُس مکان کی دہلیز کے آگے لیٹ گئی اور کہنے لگی پہلے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر لو پھر بیشک آگے بڑھ کر احمدیوں کو مار لینا۔ورنہ جب تک میں زندہ ہوں میں تمہیں آگے نہیں بڑھنے دوں گی۔اسی طرح ایک دوست نے سنایا کہ اُن کے گھر پر حملہ ہوا اور مخالفین کا ایک بہت بڑا ہجوم اُن کے مکان کی طرف آیا۔وہ اُس وقت برآمدہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں وہ کیا دیکھتے ہیں کہ جب حملہ کرنے والے قریب آئے تو ایک نوجوان جو اُن کے آگے آگے تھا گالیاں دیتے ہوئے مکان کی طرف بڑھا اور کہنے لگا ان کی مرزائیوں کو مار دو۔مگر جس وقت وہ لوگ مکان کے پاس پہنچتے تھے تو وہ نو جوان سب کو مُڑ نے کے لیے کہہ دیتا اور اُس کے مُڑ جانے کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی مڑ جاتے تھے۔آخر کچھ دیر کے بعد وہ سب لوگ واپس چلے گئے۔اتنے میں ان کے دوسرے پھاٹک کی طرف سے ایک مستری داخل ہوا جو اُن کے ماتحت کام کرتا تھا اور جسے انہوں نے ہی ملازم کروایا تھا تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ ان لوگوں کے آگے آگے کون نوجوان تھا۔میں نے دیکھا ہے کہ پہلے وہ گالیاں دیتے ہوئے آگے بڑھتا مگر پھر وہ اور اُس کا ایک ساتھی دونوں مڑ جاتے اور اُن کے مڑ جانے کی وجہ سے باقی ہجوم بھی مڑ جاتا۔وہ کہنے لگا یہ دونوں میرے بیٹے تھے۔میں نے انہیں بلا کر کہا تھا کہ مجھے پتا ہے کہ کل ان کے مکان پر حملہ ہونا ہے مگر انہوں نے مجھ پر یہ احسان کیا ہوا ہے کہ انہوں نے مجھے بھی ملازم کرایا ہے اور تمہیں بھی۔اب تمہارا فرض