خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 179

$1956 179 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔اگر وہ دیکھیں گے کہ شفا ہو گئی ہے تو پھر اُسی وقت شفا کا انتظار کرنے لگ جائیں گے حالانکہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی کو خدا نے یہ دکھایا ہو کہ اُس کے ہاں بیٹا ہوا ہے اور اُسی وقت اندر سے بیوی کی آواز آ جائے کہ الْحَمْدُ لِلہ بیٹا پیدا ہو گیا ہے۔پھر خدا تعالیٰ جو کچھ رویا میں دکھاتا ہے اُس کو پورا کرنے کے لیے ظاہری تدابیر کو بھی کام میں۔لانا ضروری ہوتا ہے۔قصہ مشہور ہے کہ ایک بزرگ کے پاس ایک سپاہی آیا اور کہنے لگا دعا کیجیے کہ میرے ہاں بیٹا پیدا ہو۔اس کے بعد وہ اُٹھ کر چل پڑا مگر بجائے اُس طرف جانے کے جس طرف سے آیا تھا وہ دوسری طرف روانہ ہو گیا۔اُس بزرگ نے اُسے آواز دی اور پوچھا کہ کہاں جاتے رہے ہو؟ تم آئے تو ادھر سے تھے اور جا اُدھر رہے ہو۔وہ کہنے لگا حضور! میں چھاؤنی جا رہا ہوں۔انہوں نے کہا اگر تم چھاؤنی جا رہے ہو تو میری دعا سے کچھ نہیں بن سکتا۔اگر تم نے بیٹا ی لینا ہے تو گھر کی طرف جاؤ۔بہر حال جس طرح دعاؤں کی قبولیت کے لیے ظاہری تدابیر سے کام لینا بھی ضروری ہوتا ہے اسی طرح خوابوں کے بعد بھی دعاؤں اور جدو جہد کو تیز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ سب کام وہ خود کرے بلکہ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ بندے بھی اس میں حصہ لیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول کا ہمیشہ یہ طریق تھا کہ جب بھی آپ کسی مریض کی نبض پر ہاتھ رکھتے فوراً دعا کرنا شروع کر دیتے کہ یا اللہ ! مجھے نہیں پتا کہ اس شخص کو کیا مرض ہے۔اس کی بیماری اس کے اندر چھپی ہوئی ہے اور تو ہی اس کو دور کر سکتا ہے۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھا دیتا اور آپ مریض کو علاج بتا دیتے۔پھر بعض دفعہ تعبیر یہ ہوتی ہے کہ ڈاکٹروں کی طرف توجہ کرو ہم انہیں علاج سمجھا دیں گے اور بعض دفعہ یہ مراد ہوتی ہے کہ دعائیں کرتے رہو آخر ان دعاؤں کے نتیجہ میں شفا ہو جائے گی۔مگر ناواقف اور روحانیت سے نابلد انسان سمجھتا ہے کہ جب خدا نے ایک نظارہ دکھا دیا ہے تو مجھے کسی دعا یا مزید جدوجہد کی کیا ضرورت ہے۔مجھے اب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ کا ایک واقعہ