خطبات محمود (جلد 37) — Page 178
$1956 178 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ میں بات کر سکوں حالانکہ نومبر دسمبر میں یہ کیفیت تھی کہ میں نے سیر روحانی کے پانچ سو کالم کی نظر ثانی کی جو کتابی صورت میں تین سو صفحات پر شائع ہو رہی ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی آخری سورتوں کا مضمون سوا سو کالم تک دیکھا۔پھر جلسہ پر تقریریں بھی کیں مگر اب یہ حالت تھی کہ ایک سطر بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ذرا بھی نظر ڈالتا تو سر چکرانے لگ جاتا۔اتر سوں تو طبیعت اتنی خراب ہو گئی کہ میں گھر میں نماز سے پہلے سنتیں پڑھنے لگا تو سنتیں پڑھنے کے لیے جھکتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی دیو نے مجھے اٹھا کر پانچ سات فٹ پرے پھینک دیا ہے۔آخر میری بیوی دوڑتی ہوئی آئی اور اس نے مجھے پیچھے سے پکڑا مگر ایک عورت کیا کرسکتی ہے۔میں پھر بھی زمین پر منہ کے بل گر گیا مگر اس کے بعد میں نے غلطی کی کہ نماز پڑھانے کے لیے آ گیا۔اس خیال سے کہ کہیں باجماعت نماز نہ رہ جائے مگر اس کا نتیجہ ہوا کہ بعد میں کئی دن طبیعت بہت خراب رہی۔بہر حال ان دنوں طبیعت اس طرح خراب رہی ہے کہ بعض دفعہ تو زندگی سے نفرت پیدا ہو جاتی تھی کہ ایسی زندگی کو کیا کرنا ہے۔بعض دوستوں کو بیشک اچھی خوابیں بھی آئی ہیں مگر وہ اس امر کو مد نظر نہیں رکھتے کہ خواہیں ہمیشہ تعبیر طلب ہوتی ہیں۔ایک دوست میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری بیوی کے منہ پر داڑھی اور مونچھیں ہیں اور اُس کے جسم پر بال بھی اُگے ہوئے ہیں۔مجھے اس خواب سے بڑی گھبراہٹ پیدا ہو گئی ہے۔میں نے کہا گھبراہٹ کی کوئی چی بات نہیں۔تمہارے ہاں لڑکا پیدا ہو گا۔اسی طرح مجھے یاد آیا کہ ابن سیرین جوحسن بصری کے داماد تھے اور جن کا مقام تصوف میں حضرت علیؓ کے بعد سمجھا جاتا ہے اُن کے پاس ایک شخص ہرایا ہوا آیا اور کہنے لگا میں تو اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہوں۔میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ وہ ننگی لیٹی ہوئی ہے اور دو مینڈھے اُس کے سامنے آپس میں ٹکریں مار رہے ہیں۔آپ کی مجھے اجازت دیں کہ میں اُسے طلاق دے دوں۔آپ نے فرمایا تم بیوقوفی نہ کرو تمہاری بیوی نے قینچی کے ساتھ صفائی کی ہے جاؤ اور جا کر پوچھو۔وہ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد آ کر کہنے لگا کہ حضور! آپ نے تو جان بچا لی۔واقعہ یہی ہے کہ اُس نے قینچی کے ساتھ صفائی کی تھی۔تو خواب میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے اول تو اس کی تعبیر ہوتی ہے۔دوسرے لوگ یہ نہیں سمجھتے