خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 76

$1956 76 خطبات محمود جلد نمبر 37 موجود ہے۔بہر حال چودھری محمد علی صاحب کے متعلق جس شخص نے یہ بات کہی ہے اس نے جھوٹ بولا ہے۔میں چودھری محمد علی صاحب کو سالہا سال سے جانتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اُن کے دل میں قرآن کریم اور اسلام کی سچی محبت پائی جاتی ہے اور پھر وہ نہایت ذہین ہیں۔اگر اُن کے سامنے کوئی شخص یہ کہتا کہ قرآن کریم فیل ہو گیا ہے تو وہ کبھی خاموش نہیں رہ سکتے۔پس اُن کی طرف اس قسم کی بات منسوب کرنا محض لوگوں کو حکومت سے بدظن کرنا ہے۔بیشک عقائد کے لحاظ سے وہ ہم سے اختلاف رکھتے ہیں لیکن میں اس کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اُن کی طرف اس قسم کی باتیں منسوب کرنا سخت ظلم ہے۔اگر یہ باتیں چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کی طرف منسوب ہوتیں اور ہم اُن کی تردید کرتے تو کہا جا سکتا تھا کہ چونکہ وہ احمدی ہیں اس لیے انہیں بچانے کے لیے اس قسم کی تردید کی جا رہی ہے لیکن چودھری محمد علی صاحب تو احمدی نہیں۔اس لیے یہاں یہ شبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ہاں! انصاف کہتا ہے کہ میں اس کی تردید کروں کیونکہ میں انہیں سالہا سال سے جانتا ہوں۔وہ اسلام کے شیدائی ہیں، قرآن کریم سے انہیں محبت ہے۔اس لیے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اُن کے منہ سے کوئی ایسی بات نکلے جس سے اسلام کی ہتک اور تنقیص ہوتی ہو۔پس اگر کسی نے اُن کی طرف اس بات کو منسوب کیا ہے تو محض فتنہ کھڑا کرنے کے لیے ایسا کیا ہے۔اول تو ہو سکتا ہے کہ اس قسم کا کوئی واقعہ ہوا ہی نہ ہو۔لیکن اگر کوئی ایسا واقعہ ہوا ہے تو چودھری محمد علی صاحب کی طرف جو بات منسوب کی گئی ہے وہ بالکل جھوٹ ہے۔اور یہ صرف میں ہی نہیں کہتا بلکہ جو شخص بھی چودھری محمد علی صاحب کے کیریکٹر سے واقف ہے وہ اسے جھوٹ قرار دے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آجکل مسلمانوں میں بعض ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اسلام اور قرآن کریم کے خلاف باتیں سن کر چپ ہو جاتے ہیں۔لیکن چودھری محمد علی صاحب اسلام اور قرآن کریم کی محبت رکھتے ہیں، ان کے اندر جوش اور اخلاص پایا جاتا ہے، ان کا ایسی بات کو سن کر چپ رہنا ناممکن ہے۔پس یا تو یہ واقعہ ہوا ہی نہیں اور یا پھر کسی نے آدھی بات بیان کر دی ہے اور چودھری محمد علی صاحب نے جو منہ توڑ جواب اُس شخص کو دیا ہو گا اس کا ذکر نہیں کیا۔آخر وہ وزیر اعظم ہیں، تعلیم یافتہ آدمی