خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 74

$1956 74 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ اُس نے دوسری شادی دعوی سے پہلے کی تھی دعوی کے بعد اس نے کوئی شادی نہیں کی۔میں نے کہا بہائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ امام کو بچپن سے ہی غیب کا علم حاصل ہوتا ہے۔اس عقیدہ کے ماتحت جب بہاء اللہ کو بچپن سے ہی پتا تھا کہ تعد دازدواج ناجائز ہو جائے گا تو اُس نے ایک سے زائد بیویاں کیوں کیں؟ اس پر وہ پھر گھبرا گئی اور مختلف بہانے بنا کر اُس نے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی لیکن جب میں نے مجبور کیا تو اُس نے کہا دعوی کے بعد بہاء اللہ نے اپنی ایک بیوی کو بہن قرار دے دیا تھا۔میں نے کہا جب اُسے بچپن سے غیب کا علم تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہ چیز ناجائز ہونے والی ہے تو اُس نے یہ کھیل کھیلا کیوں؟ آخر اس تماشا کی ضرورت کیا تھی ؟ پھر تمہارا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اس نے اپنی ایک بیوی کو بہن قرار دے دیا تھا۔کیونکہ اگر اس نے اپنی ایک بیوی کو بہن قرار دے دیا تھا تو اس بہن کے ہاں بہاء اللہ سے اولاد کیوں ہوئی ؟ محمد علی جو بہاء اللہ کا دوسرا نائب تھا اُس کی دوسری بیوی سے ہی تھا۔میں نے کہا تم محمد علی سے ہی پوچھ لو کیا وہ دوسری بیوی سے نہیں؟ اُس وقت وہ زندہ تھا اور میں نے اُس عورت کو بتایا تھا کہ میں انگلستان آتا ہوا اُسے مل کر آیا ہوں۔اِس پر اُس عورت نے کہا ہاں! آپ کی یہ بات درست ہے کہ محمد علی دوسری بیوی سے ہی پیدا ہوا تھا اور دعوی کے بعد پیدا ہوا تھا۔لیکن پھر بھی یہ بات قابلِ اعتراض نہیں کیونکہ وہ دوسری بیوی سے شادی دعوی سے قبل کر چکے تھے۔میں نے کہا اگر دعوی کے بعد بھی اس کے ہاں اولاد ہوئی ہے تو وہ بہن تو نہ ہوئی۔امریکن عورت زیادہ معقول تھی۔میری اس گفتگو پر وہ کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی کہ اگر یہ بات ہے تو پھر میں مسلمان ہوں بہائی نہیں ہوں۔غرض قرآن کریم کے متعلق یہ کہنا کہ وہ فیل ہو گیا ہے ایک بالکل جھوٹا دعوی ہے۔ان کا یہ دعوی تب سچا سمجھا جا سکتا تھا جب بہائی لوگ اس میں سے پندرہ ہیں باتیں ایسی نکال کر پیش کرتے جن پر عمل نہ ہو سکتا۔یا بہائیت کی تعلیم میں سے پندرہ ہیں باتیں ایسی دکھاتے جو قرآن کریم میں موجود نہ ہوتیں اور اس کی تعلیم سے بہتر ہوتیں۔یا بہاء اللہ کے دعوی کے بعد کوئی حکومت ایسی قائم ہوتی جو بہائیت کی تعلیم پر عمل کرتی۔مگر حالت یہ ہے کہ جس قرآن کے متعلق بہائی لوگ کہتے ہیں کہ وہ فیل ہو چکا ہے اُس کی تعلیم پر عمل کرنے والوں کو