خطبات محمود (جلد 37) — Page 69
$1956 69 خطبات محمود جلد نمبر 37۔کیوں ہیں حالانکہ یہ لفظ تعظیم کے لیے بنایا گیا تھا اور ہمارے کئی بزرگوں کے ناموں سے پہلے ملا کا لفظ آتا ہے۔در حقیقت یہ لفظ مولائی کا مخفف ہے جس کے معنے ہیں ” میرے آقا با ” میرے سردار۔اسی کے خلاصہ کے طور پر ملا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور بعض جگہ مولوی کے لفظ سے اس کا مفہوم ادا کیا جاتا ہے۔بہر حال اگر کسی عالم دین کو اصلاح اخلاق اور خدمت خلق کی توفیق ہے تو چاہے وہ مسلمان ہو، پادری ہو، پنڈت ہو، ہمارے نزدیک وہ بزرگ ہے کیونکہ وہ مذہب کا اصل کام کر رہا ہے۔مگر باوجود یہ تسلیم کرنے کے کہ دنیا کے ہر ب میں نیک اور صالح علماء پائے جاتے ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ جب عالم لوگ دیکھتے ہیں کہ اب ہمارے ہاتھ سے رستہ نکل رہا ہے تو وہ مخالفت کرنے لگ جاتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے سپین میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ اسلام کے پھیلنے کی وجہ سے اب وقت آ گیا کی ہے کہ اسے پوری طاقت کے ساتھ دیا دیا جائے۔اس کا یہی علاج ہے کہ ہمارے پاس زیادہ ہوں تا کہ وہ بڑی تعداد میں وہاں جائیں اور اسلام کی اشاعت کریں اور لوگوں کے شکوک و شبہات کو دور کریں۔دوسری صورت اِس کے علاج کی یہ ہے کہ اس ملک میں کثرت سے دینی لٹریچر بھیجا جائے تا کہ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد وہاں کے لوگ حق و باطل میں امتیاز کر سکیں۔سپین کو ہی لے لو وہاں ہماری بعض کتابوں کا ترجمہ شائع کیا جا رہا تھا لیکن حکومت نے اس کی اشاعت روک دی۔اور جو کتابیں چھپ چکی تھیں اُن کے متعلق حکم دے دیا کہ انہیں ملک میں تقسیم نہ کیا جائے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اور راستے کھول دیئے۔اب وہی تراجم انگلستان میں شائع کرنے کے بعد وہاں پہنچ رہے ہیں اور جو کتابیں وہاں براہ راست فروخت نہیں ہو سکتی تھیں انہیں انگلستان کی جماعت منگواتی ہے اور پھر ڈاک کے ذریعہ سپین میں بھیج دیتی ہے۔اس طرح وہاں اشاعت اسلام کا کام ہو رہا ہے۔تیسری بات جو میں آج بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ حال ہی میں کراچی میں بہائیوں کا ایک جلسہ ہوا ہے جس میں ایک ایسی بات کہی گئی ہے جو فتنہ پھیلانے کا موجب ہے۔اگر چہ وہاں گورنمنٹ کے بھی آدمی ہوں گے اور انہوں نے اسے افسرانِ متعلقہ تک پہنچا دیا ہو گا لیکن میں بھی اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اس کی تردید کروں۔وہاں سے ایک