خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 68

$1956 68 خطبات محمود جلد نمبر 37 حقیقی اسلام ہے سو یا دو سو کے پھیر میں آکر بیچنے کے لیے تیار ہو تو کیا حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کا وہی مذاق جو آپ نے یہودا اسکر یوطی سے کیا تھا تم پر چسپاں ہوتا ہے یہ نہیں؟ بہر حال میں ان چند فقرات پر اپنے پچھلے خطبہ کے مضمون کو ختم کرتا ہوں۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج ہی ایک خبر آئی ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ اب یورپ کی حکومتیں براہِ راست اسلام کی اشاعت میں دخل دے رہی ہیں۔آج ہی سپین کے مبلغ کا خط آیا ہے جس میں اُس نے لکھا ہے کہ پانچ سات نئے احمدی میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ خفیہ پولیس آگئی اور اُس نے اُن احمدی دوستوں سے کہا کہ تم حکومت کے باغی ہو کیونکہ حکومت کا مذہب تو رومن کیتھولک ہے لیکن تم نے اسلام کو قبول کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان احمدیوں کو ثابت قدمی دکھانے کی توفیق دی۔انہوں نے کہا ہم حکومت کے باغی نہیں کی ہم حکومت کے فرمانبردار ہیں۔بلکہ تم سے زیادہ فرمانبردار ہیں۔لیکن اس بات کا مذہب کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ جہاں تک حکومت کے قانون کا سوال ہے ہم اس کی پابندی کرنے کے لیے ر وقت تیار ہیں لیکن جہاں تک مذہب کا سوال ہے حکومت کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔جب ہمیں یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ اسلام سچا مذہب ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں تو تم اس سے روکنے والے کون ہوتے ہو؟ چنانچہ وہ لوگ واپس چلے گئے۔لیکن اس سے پتا لگتا ہے کہ اب بعض جگہوں پر حکومتوں میں بھی یہ احساس پیدا نے لگ گیا ہے کہ اسلام پھیل رہا ہے، اسے کسی نہ کسی طرح روکنا چاہیے۔اور جہاں بھی اسلام پھیلے گا یہ احساس ضرور پیدا ہو گا کیونکہ مُلا ہر جگہ موجود ہیں۔صرف فرق یہ ہے کہ کسی جگہ اسلام کے ماننے والے ملا ہیں اور کسی جگہ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا بیٹا ماننے والے مُلا ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سارے مُلا بُرے نہیں ہوتے۔عیسائیوں میں بھی کئی نیک فطرت پادری ہیں جو لوگوں کی اصلاح اور خدمت خلق کا کام کرتے ہیں اور ہم انہیں بُرا کہتے بلکہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اسی طرح مسلمانوں کے علماء میں سے بھی وہ لوگ جو دوسروں کی اصلاح کی طرف متوجہ ہیں اور خدمت خلق کا کام کرتے ہیں ہم اُن کی ی عزت کرتے ہیں بلکہ ہمیں تو اس بات پر حیرت آتی ہے کہ مسلمان ملا کے لفظ سے چڑتے