خطبات محمود (جلد 37) — Page 67
$1956 67 خطبات محمود جلد نمبر 37 کریں گے، ان میں اخلاص پیدا کریں گے اور والدین کو مجبور کریں گے کہ وہ اپنی اولاد کی کی تربیت اس رنگ میں کریں کہ وہ بڑے ہو کر اچھے کام کر سکیں ، زراعت اچھی کر سکیں ،تجارت اچھی کرسکیں ،صنعت و حرفت میں ترقی کریں۔اس طرح جماعت کی آمدنی بڑھے گی اور جب جماعت کی آمدنی بڑھے گی تو چندہ بھی زیادہ آئے گا اور اس طرح نہ صرف مبلغین کے گزارے بڑھائے جاسکیں گے بلکہ مبلغین کی تعداد بڑھانے سے جماعت کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا بلکہ ایک وقت وہ بھی آئے گا جب تمہیں لاکھوں مبلغ پیدا کرنے ہوں گے اور اگر تم لاکھوں مبلغ ی پیدا نہیں کرو گے تو تم دنیا کو مسلمان کیسے بنا سکو گے؟ بہر حال یہ روحانی پہلو تھا جو میں نے بیان کر دیا ہے۔ورنہ طلباء کی طرف سے متفقہ طور پر درخواست آگئی ہے کہ ہمارے یہ خیالات نہیں۔پس اُن کے متعلق جو غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی وہ دور ہو گئی ہے لیکن پھر بھی میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کی تمہارے ساتھ وابستہ ہے۔اس لیے تم اس کام کو خدا تعالیٰ کی خاطر کرو اور دو طرف سے بدلہ لینے کی کوشش نہ کرو۔یعنی ایک طرف تو تم تحریک جدید سے اعلیٰ سے اعلیٰ گزارے مانگو اور دوسری طرف خدا تعالیٰ سے بھی ثواب اور برکت کی امید رکھو۔اگر تمہیں تحریک جدید سے حسب خواہش اپنا بدلہ مل گیا تو خدا تعالیٰ سے تم کس ثواب کے امیدوار ہو گے۔بہر حال تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت تمہارے ہاتھ میں ہے۔اس لیے تمہارا فرض ہے کہ تم اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو سدھارتے چلے جاؤ تا کہ دینی کی خدمت کے لیے زیادہ سے زیادہ آدمی آگے آئیں۔اگر تم دین کی خدمت کے لیے آگے نہیں آؤ گے اور اپنی نسلوں کو اس کام کے لیے تیار نہیں کرو گے تو خدا تعالیٰ اس کام کے لیے اور لوگ کھڑے کر دے گا کیونکہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے کسی انسان کا قائم کردہ نہیں۔تمہیں سوچنا چاہیے کہ کیا تمہاری نظر میں احمدیت کی کوئی قیمت ہے یا تم اسے چند روپوں کے بدلہ میں بیچنے کے لیے تیار ہو؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہودا اسکر یوطی پر کتنا مذاق اُڑایا ہے کہ اُس نے حضرت عیسی علیہ السلام کو تمیں سکوں میں یہودیوں کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔اسلام تو حضرت عیسی علیہ السلام سے بہت زیادہ قیمتی ہے۔اگر تم احمدیت کو