خطبات محمود (جلد 37) — Page 56
$1956 56 خطبات محمود جلد نمبر 37 فرد بھی احمدیت میں داخل نہیں ہوا تھا یا پھر ایک ایک آدمی نے اُن کے ذریعہ بیعت کی تھی۔اب اگر ایک مبلغ سال میں ایک آدمی احمدیت میں داخل کرے تو صرف پاکستان کی آبادی آٹھ کروڑ ہے جس کے لیے ہمیں آٹھ کروڑ مبلغین کی ضرورت ہو گی اور ان مبلغین میں سے ہر ایک کو اگر پچاس روپے ماہوار دیے جائیں تو اس کے لیے چار ارب روپیہ درکار ہو گا اور صدر انجمن احمدیہ کی گل آمد دس لاکھ روپیہ سالانہ ہے۔پھر سیدھی طرح یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہم تبلیغ نہیں کر سکتے ہمیں صرف روپیہ کی ضرورت ہے۔اگر ہمیں روپیہ ملے گا تو ہم تبلیغ کریں گے ورنہ نہیں۔غرض دو باتوں میں سے کوئی بات قبول کر لو۔یا تو کہہ دو کہ ہمیں دین سے کوئی غرض نہیں اور یا پھر تنخواہوں کی پروا نہ کرتے ہوئے کام کرتے چلے جاؤ۔اور یاد رکھو کہ اگر تم دین کی خدمت نہیں کرو گے تو خدا تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کے لیے اُن سیدھے سادے لوگوں کو کھڑا کر دے گا جو شاہدین میں سے نہیں لیکن انہیں خدا اور اُس کے رسول سے چی محبت ہے اور وہ اُن سے کام لینا شروع کر دے گا۔میں نے کئی بار سنایا ہے کہ ہماری جماعت میں ایک دوست شیر محمد صاحب تھے جو ا کا چلایا کرتے تھے۔وہ ضلع جالندھر کے رہنے والے تھے۔تعلیمی لحاظ سے اُن کی یہ حالت تھی کہ نہ انہیں پڑھنا آتا تھا اور نہ وہ لکھنا جانتے تھے۔لیکن اُن کے ذریعہ چالیس پچاس آدمی احمدیت میں داخل ہوئے تھے حالانکہ اس وقت بعض مبلغ صرف ایک ایک آدمی سال میں احمدیت میں داخل کرتے ہیں۔گویا ایک مبلغ کو ہم پانچ چھ سال تک پڑھا ئیں اور پھر اُسے پچاس روپیہ ماہوار دیں اور چالیس سال تک اسے اس حساب سے تنخواہ دیتے چلے جائیں تب کہیں اس کے ذریعہ اُتنے آدمی احمدیت میں داخل ہوں گے جتنے ایک ان پڑھ شیر محمد کے ذریعے احمدیت میں داخل ہوئے تھے۔اُن کا طریق یہ تھا کہ وہ ”الحکم خرید لیتے اور اگا کی سواریوں میں سے اگر کوئی تعلیم یافتہ اور لکھا پڑھا آدمی نظر آتا تو اُسے وہ اخبار دے دیتے اور کہتے کہ بھائی! آپ پڑھے لکھے ہیں ذرا یہ اخبار مجھے سنا دو۔وہ ”الحکم“ لے لیتا اور شیر محمد کو سناتا جاتا اور دل ہی دل میں احمدیت کا قائل ہوتا جاتا۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ مسافر اپنے گاؤں پہنچا اور اس نے شیر محمد صاحب سے دریافت کیا کہ بھائی! مجھے اس اخبار کا پتا لکھا دو، کہاں۔ނ