خطبات محمود (جلد 37) — Page 596
$1956 596 خطبات محمود جلد نمبر 37 حضرت صاحب نے فرمایا یہ قرآن کریم کے خلاف نہیں۔میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے یہ عقیدہ تو قرآن کریم کے خلاف ہے کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا اگر قرآن کریم سے ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو ہم مان لیں گے۔میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے اگر میں ایک سو آیتیں ایسی لا دوں جن سے ثابت ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو کہ آپ مان لیں گے؟ انہوں نے خیال کیا کہ جب سارے مولوی کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو قرآن کریم میں سو آیت تو ایسی ضرور ہو گی جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کا زندہ ہونا ثابت ہوتا ہو گا۔حضرت صاحب فرمانے لگے میاں صاحب! سو آیت کا کیا سوال ہے آپ ایک آیت ہی لکھوا لائیے کیونکہ قرآن کریم کا تو ایک شوشہ بھی ماننے کے قابل ہے۔اگر آپ ایک آیت بھی لکھوا لائیں گے تو میں مان لوں گا۔میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے ایک سونہیں تو ستر اتنی ہی سہی۔حضرت صاحب فرمانے لگے میاں نظام الدین! ستر اسی آیتوں کی ضرورت نہیں ایک آیت ہی کافی ہے۔میاں نظام الدین صاحب نیچے اُترتے اُترتے دس آیتوں پر آگئے لیکن حضرت صاحب یہی فرماتے رہے کہ میاں نظام الدین! صرف ایک آیت لے آئیے میں مان جاؤں گا۔آخر میاں نظام الدین صاحب نے کہا اچھا میں دس آیات لے آتا ہوں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی ان کے گہرے دوست تھے۔اس لیے وہ بٹالہ گئے۔وہاں سے پتا لگا کہ مولوی صاحب لاہور گئے ہوئے ہیں۔چنانچہ وہ لاہور گئے۔اُن دنوں حضرت خلیفتہ المسیح الاول قادیان آنے کے لیے لاہور آئے ہوئے تھے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اشتہار دینے شروع کیے تھے کہ میرے ساتھ وفات و حیات مسیح پر مباحثہ کر لو اور بحث یہ تھی کہ اپنے دعوی کے ثبوت میں احادیث پیش کی جائیں گی اور حضرت خلیفتہ المسح الاول فرماتے تھے کہ احادیث نہیں قرآن کریم پیش کیا جائے گا۔دونوں طرف سے اصرار ہوتا رہا۔آخر حضرت خلیفہ اسیح الاول نے بحث کو چھوٹا کرنے کے لیے فرمایا کہ چلو صحیح بخاری کی احادیث پیش کر دی جائیں۔اس پر مولوی محمد حسین بٹالوی نے سمجھا کہ میری فتح ہوئی۔جب میاں نظام الدین صاحب لاہور پہنچے تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔