خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 590

$1956 590 خطبات محمود جلد نمبر 37 ย لگ سکتا ہے۔اگر مستقبل کا علم دونوں کو ہو سکتا ہے تب بھی دونوں برابر ہو گئے اور اس صورت میں أُولِی الْأَمْرِ مِنكُمْ کے ماتحت امام کے حکم کی اطاعت فرض ہو گئی۔اور اگر دونوں کو پتا نہیں لگ سکتا تب بھی دونوں برابر ہو گئے اور اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ کے ماتحت امام کے حکم کی اطاعت لازمی ہو گئی۔اور اُحد کی عملی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ درہ پر متعین سپاہیوں نے ا۔افسر کے سامنے عقلی دلیل پیش کی اور اس عقلی دلیل سے انہوں نے خیال کیا کہ ان کے افسر کا حکم غلط ہے اور ہم نے جو بات سمجھی ہے وہ معقول ہے مگر باوجود اس کے کہ انہوں نے اپنے نزدیک ایک معقول بات پر عمل کیا اُن کی بات غلط نکلی اور افسر کی بات ٹھیک نکلی۔اور نتیجہ یہ نکلا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شدید تکلیف پہنچی اور پھر صحابہ کو بھی اتنی تکلیف پہنچی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق خیال کر لیا گیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔آپ کی خود کا رکیل آپ کی پیشانی میں گھس گیا اور ایک صحابی حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے اپنے دانتوں سے اسے نکالا جس کی وجہ سے اُن کے دو دانت ٹوٹ گئے اور صحابہ کو آپ کی اس طرح حفاظت کرنی پڑی کہ حضرت طلحہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ آپ کے چہرہ کے سامنے اپنا ہاتھ سیدھا کر کے کھڑے ہو گئے۔دشمن نے خیال کیا کہ وہیں تیر مارنے چاہیں جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہیں کیونکہ وہی ایک مرکزی نقطہ ہیں۔اگر وہ ختم ہو گئے تو اسلام ختم ہو جائے گا۔حضرت طلحہ نے جب دیکھا کہ چاروں طرف سے تیر آپ پر پڑ رہے ہیں تو وہ آگے آئے اور آپ کے چہرہ کے آگے انہوں نے اپنا ہاتھ کھڑا کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تیر پڑتے تھے لیکن حضرت طلحہ انہیں اپنے ہاتھ پر روک سکی لیتے تھے۔جنگ اُحد کے بعد کسی نے حضرت طلحہ سے دریافت کیا کہ جب تیر آپ کے ہاتھ ہے پڑ رہے تھے تو کیا آپ کو درد نہیں ہوتی تھی اور کیا آپ کے منہ سے اُفت نہیں نکلتی تھی؟ حضرت طلحہ نے جواب دیا درد بھی ہوتی تھی اور اُف بھی نکلنا چاہتی تھی لیکن میں اُف کرتا نہیں تھا۔تا ایسا نہ ہو کہ اُف کرتے وقت میرا ہاتھ ہل جائے اور تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر آ گرے۔اب تم سوچ لو کہ گجا یہ کہ اگر کسی کے ہاتھ میں ایک معمولی کے ہاتھ میں ایک معمولی سی سوئی بھی پجھ جائے