خطبات محمود (جلد 37) — Page 591
$1956 591 خطبات محمود جلد نمبر 37 تو وہ اسے برداشت نہیں کر سکتا اور گجا یہ کہ ایک شخص آدھ گھنٹہ یا پون گھنٹہ اپنا ہاتھ سیدھا کر کے کھڑا رہے اور چاروں طرف سے اُس پر تیر گر رہے ہوں اور وہ اُف تک نہ کرے۔پھر اس بات کو بھی سوچو کہ تیر کا کافی وزن ہوتا ہے اور اُس کا آخری سرا زیادہ بھاری ہوتا ہے۔اب تصور کرو کہ تیر کا اگلا سرا تو زخم میں چھا ہوا ہو اور دوسرا سر ا نیچے لٹک رہا ہو تو کتنی تکلیف ہو گی۔پھر وہاں ایک تیر نہیں تھا بلکہ چار چار، پانچ پانچ تیر ایک ہی وقت میں حضرت طلحہ کے ہاتھ میں پچھے ہوتے تھے اور اُن کے دوسرے سرے نیچے لٹک رہے ہوتے تھے لیکن پھر بھی وہ ہیں کہ میں نے اُف تک نہیں کی اور اس لیے اُف نہیں کی کہ کہیں اُف کرنے سے میرا ہاتھ نہ ہل جائے اور تیر بجائے میرے ہاتھ پر پڑنے کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر نہ پڑیں۔غرض اس قدر تکلیف جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کو پہنچی وہ صرف چند پیغامی عقیدہ رکھنے والوں کی وجہ سے پہنچی۔ان چند پیغامیوں نے یہ کہا کہ یہ شرک ہے کہ کسی کی ہر بات مان لی جائے اور اس پر اعتراض نہ کیا جائے۔جیسے آجکل پیغامی لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص مجھ پر سچا اعتراض بھی کرے گا تو وہ گنہگار ہو گا۔اب دیکھو جنگ اُحد میں درہ کی حفاظت پر متعین لوگوں نے سچا اعتراض کیا تھا یا نہیں؟ پھر وہ گنہگار ہوئے یا نہیں؟ انہوں نے اپنے افسر پر سچا اعتراض کیا اور کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ منشا نہیں ہو سکتا تھا کہ جنگ ختم بھی ہو جائے تب بھی تم اس درّہ پر کھڑے رہو۔پس انہوں نے اپنے افسر پر سچا اعتراض کیا تھا مگر پھر بھی گنہگار ہوئے اور قرآن کریم میں اُن کے اِس گناہ کا ذکر کرتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمانوں مصیبت اس لیے نازل ہوئی کہ ان لوگوں سے غلطی ہوئی اور وہ افسر کے کہنے کے باوجود دره چھوڑ کر نیچے آ گئے۔غرض جنگ اُحد اس بات کی مثال ہے کہ بعض لوگوں نے اپنے افسر پر سچا اعتراض کیا اور پھر بھی گنہگار ہوئے۔اگر فتح ہو جاتی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ނ پوچھا جاتا کہ يَارَسُولَ اللہ کیا آپ کا یہ منشا تھا کہ اسلامی لشکر کو فتح بھی ہو جائے اور دشمن مالی بھاگ جائے تب بھی ہم درّہ پر کھڑے رہیں؟ تو ممکن ہے کہ آپ فرماتے کہ یہ تو بیوقوفی کی