خطبات محمود (جلد 37) — Page 46
$1956 46 خطبات محمود جلد نمبر 37 خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔اگر کسی جگہ ایک پادری مارا جاتا ہے تو اُسی دن تبلیغی انجمن کے مرکزی دفتر میں سینکڑوں تاریں پہنچ جاتی ہیں کہ ہم اُس کی جگہ پر جانے کے لیے تیار ہیں۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ ایک دفعہ چین میں کوئی مشنری عورت بُری طرح قتل کر دی گئی۔جب یہ خبر اخبارات میں چھپی تو اُسی دن شام تک ہزاروں عورتوں کی تاریں پہنچ گئیں کہ ہم اس عورت کی جگہ جانے کے لیے تیار ہیں، ہمیں اُس علاقہ میں بھجوا دیا جائے۔لیکن کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ روح نہیں پائی جاتی۔اسی طرح میں نے بتایا تھا کہ بعض دوسرے ممالک میں دنیوی حکومتیں بھی ایک ایک خاندان یا قوم میں سینکڑوں سال تک چلی جاتی ہیں لیکن ہمارے ہاں سب انتظام عارضی ہوتے ہیں اور جلد ٹوٹ جاتے ہیں۔جہاں تک گزارے کا سوال ہے عیسائی پادریوں نے بھی وہی تعلیم حاصل کی ہوئی ہوتی ہے جو اُن کے دنیوی عہدیداروں نے حاصل کی ہوئی ہوتی ہے لیکن پھر بھی پادریوں کو کم گزارے ملتے ہیں اور دنیوی عہدہ داروں کو اُن سے بہت زیادہ تنخواہیں ملتی ہیں لیکن باوجود گزارہ کم ملنے کے پادریوں کی تعداد میں کمی نہیں آتی۔اس وقت پروٹسٹنٹ اور کیتھولک دونوں فرقوں کے ڈیڑھ لاکھ کے قریب پادری ہیں۔ہم عیسائیوں کو خواہ کتنا ہی دنیا دار کہیں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں اپنے دین کی اشاعت کے لیے ڈیڑھ لاکھ پادری میسر آ رہا ہے لیکن مسلمانوں میں یہ روح نہیں پائی جاتی۔میں نے جماعت کے نوجوانوں کو بالعموم اور جامعتہ المبشرین کے طلباء کو بالخصوص یہ توجہ دلائی تھی کہ وہ اس امر کے متعلق غور کریں اور سوچیں اور اپنی رائے سے مجھے بھی اطلاع دیں۔چنانچہ میرے اُس خطبہ کے بعد جامعتہ المبشرین کے دو طلباء مجھ سے ملے اور انہوں نے اپنی رائے پیش کی۔میں نے خیال کیا چلو شکر ہے میرے خطبہ کے نتیجہ میں کم از کم دو طلباء کو تو اس امر کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے۔لیکن اُن دونوں طلباء نے جو باتیں پیش کیں وہ اس سوال کا جواب نہیں تھیں جو میں نے ان کے سامنے پیش کیا تھا۔انہوں نے جو باتیں کہیں وہ وہی تھیں جو میں نے خطبہ میں بیان کی تھیں۔میں نے کہا تھا کہ اگر گزارہ کی کمی کی وجہ سے ہمیں واقفین زندگی نہیں ملتے تو عیسائیوں میں بھی دنیوی عہدیداروں کی تنخواہیں پادریوں ނ