خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 558

$1956 558 خطبات محمود جلد نمبر 37 گھروں میں، اپنے بیوی بچوں اور رشتہ داروں میں بیٹھے ہیں۔وہ لوگ جو وطن چھوڑ کر اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں وہ صرف احمدی ہی ہیں۔گویا سَيَعُودُ غَرِيبًا کی پیشگوئی احمدیوں کے ذریعہ سے ہی پوری ہو رہی ہے۔پس مخالف جتنا بھی شور ہمارے خلاف مچاتے ہیں اُتنا ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارا ایمان اور یقین بڑھتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے مخالفوں کے مونہوں سے ایسی باتیں نکلوا دیتا ہے جس کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور بھی روشن ہو جاتی ہے۔اور قرآن کریم پر ہمارا ایمان اور یقین بڑھتا چلا جاتا ہے اور ہمیں اطمینان ہوتا ہے کہ جس خدا نے تیرہ سو سال پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے وطن میں بے وطن ہونے کی خبر دی تھی وہ آج ہمیں کیوں نہیں دیکھ رہا۔پس ہمارے دلوں کو تسکین ہوتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ تیرہ سو سال پہلے ہمارا ذکر کرنے والا خدا آج بھی ہمارا ذکر کرے گا اور جب خدا تعالیٰ ہمارا ذکر کرے گا۔تو وہ صرف آسمان پر ہی ذکر نہیں کرے گا بلکہ زمین پر بھی کرے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو آسمان پر جبرائیل سے کہتا ہے کہ فلاں بندہ سے میں محبت کرتا ہوں۔پھر جبرائیل اپنے نچلے فرشتوں سے کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس بندہ سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔پھر وہ فرشتے اپنے ماتحت اور نچلے درجہ کے فرشتوں کو اس بات کی تلقین کرتے ہیں۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ 4 ساری دنیا میں اس کی مقبولیت پھیلا دی جاتی ہے۔تو جب ہمارے خدا نے تیرہ سو سال پہلے آسمان سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے متعلق خبر دی تھی تو لازماً وہ اب بھی ہمارا ذکر کرے گا اور جبریل دوسرے فرشتوں میں اسے پھیلائے گا اور نچلے فرشتے اپنے ماتحت فرشتوں میں اسے پھیلائیں گے اور پھر فرشتے زمین والوں کو اس کی تلقین کریں گے۔یہاں تک کہ زمین والے ہم لوگوں کو وطن دے دیں گے اور آپ بے وطن ہو جائیں گے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی کی محبت دل میں ڈال دیتا ہے تو اُس کو لوگ اپنے آپ پر مقدم کر لیتے ہیں۔مدینہ والوں کو دیکھ لو مکہ سے لوگ ہجرت کر کے وہاں گئے اور انصار نے اپنے دے دیئے اور اُن کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں کیں۔احادیث میں آتا ہے انہیں