خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 557

$1956 557 خطبات محمود جلد نمبر 37 جو اپنے ملک اور وطن میں رہتے ہوئے بھی بے وطن تھے اور آئندہ بھی ایسے ہی لوگ اسلام کی کی مدد کریں گے۔غریب کے معنے عربی زبان میں مفلس کے نہیں ہوتے بلکہ مسافر اور بے وطن کے ہوتے ہیں۔مگر مسافر سے یہ مراد نہیں کہ وہ لوگ کہیں باہر سے آئے تھے بلکہ اس کے معنے ނ یہ ہیں کہ حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور دوسرے صحابہ تھے تو مکہ کے ہی لیکن مکہ والوں کو ان اس قدر دشمنی تھی کہ وہ ان سے ایسا سلوک کرتے تھے کہ گویا وہ کہیں باہر سے آئے ہیں اور ان کے قابو آ گئے ہیں۔گویا ابتدا میں بھی انہیں لوگوں نے اسلام کی مدد کی جو اپنے وطن میں رہتے ہوئے بھی بے وطن تھے اور آخری زمانہ میں بھی اسلام کی وہی لوگ مدد کریں گے جو اپنے وطن میں بے وطن ہوں گے۔چنانچہ دیکھ لو ہر روز جلسے ہوتے ہیں، حکومت سے کہا جاتا ہے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دے دو یعنی انہیں وطن میں بے وطن کر دو۔یہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے گویا احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر کے یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرتے ہیں۔ہمیں تو خوشی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔جب یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دے دیا جائے تو ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد آ جاتی ہے کہ بَدَءَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا یعنی آخری زمانہ میں وہ لوگ اسلام کی مدد کریں گے جو اپنے وطن میں بے وطن ہوں گے۔پس جتنا بھی شور مچایا جاتا ہے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دو اُتنی ہی ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بَدَءَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا اب اسلام تو کوئی جاندار چیز نہیں جو مسافر ہو یا غریب ہو بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت کرنے والے غریب ہوں گے اور وطن میں رہتے ہوئے بے وطن ہوں گے۔پھر ان الفاظ میں اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ اسلام ان لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا جو اپنا وطن چھوڑ کر اسلام کی تبلیغ کریں گے۔اب دیکھ لو وطن چھوڑ کر اسلام کی تبلیغ کرنے والے بھی صرف احمدی ہی ہیں ورنہ دوسرے مولوی تو مسجدوں میں بیٹھے ہیں یا اپنے