خطبات محمود (جلد 37) — Page 556
$1956 556 خطبات محمود جلد نمبر 37 زیادہ کریں گے۔مولوی ظفر علی صاحب اب تو فوت ہو گئے ہیں وہ اپنی زندگی میں غیر مبائعین کا ذکر کرتے ہوئے عام طور پر کہا کرتے تھے کہ قادیان والے اور لاہوری احمدی دراصل ایک ہی ہیں۔ان میں کوئی فرق نہیں۔ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ان میں سے ایک دمشقی ہیں اور ایک اندلسی۔تو حقیقت یہ ہے کہ پیغامی چاہے دوسرے لوگوں کو خوش کرنے کی کتنی کوشش کریں وہ خوش نہیں ہوں گے۔یوں کسی اخبار کا کوئی اعلان کر دینا اور بات ہے۔مثلاً نوائے پاکستان نے کوئی مضمون شائع کر دیا یا سفینہ نے شائع کر دیا تو اس سے کیا بنتا ہے۔انہوں نے تو اپنے کالم پر کرنے ہیں۔سوال تو یہ ہے کہ نوائے پاکستان یا سفینہ نے ان لوگوں کو کبھی دو چار ہزار یا دس ہزار دیا بھی ہے؟ اگر پھر بھی یہ لوگ جوتیاں چٹاتے ہی پھر رہے ہیں تو ان اخبارات کے خالی ایک نوٹ شائع کر دینے سے کیا بنتا ہے۔آخر یہ دونوں روزانہ اخبارات ہیں اور ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ہماری چھ چھ ہزار یا آٹھ آٹھ ہزار کی اشاعت ہے۔اگر چھ ہزار بھی اشاعت سمجھ لی جائے تو ایک اخبار چالیس روپے فی خریدار لیتا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ کوئی اڑھائی لاکھ روپیہ سالانہ کی آمدن ہے۔اگر سوا دولاکھ روپیہ بھی اخبار چلانے اور دفتر کے اخراجات پر خرچ ہو جائے تو پھر بھی بیس پچیس ہزار بچ جاتا ہے۔اس میں چھپیں ہزار میں سے دس پندرہ ہزار ہی وہ ان کے حوالہ کر دیں تو ہم مان لیں کہ یہ لوگ ان کے خیر خواہ ہیں لیکن کی انہوں نے ان کو ایک پیسہ بھی نہیں دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے دلوں میں ان کے لیے کوئی احساس ہمدردی نہیں۔اگر ان کے دلوں میں احساس ہمدردی ہوتا تو وہ انہیں کچھ یتے۔ہماری جماعت کو دیکھ لو اس کا غریب سے غریب آدمی بھی چندہ دیتا ہے کیونکہ اُس کے دل میں ایمان ہے اور چندہ دے کر دل میں خوشی محسوس کرتا ہے۔اگر وہ چندہ نہیں دیتا تو یہ لاکھوں روپیہ کا خرچ کہاں سے چلتا ہے؟ یہ خرچ اسی جماعت کے چندوں سے چلتا ہے جو دنیا میں مفلس و قلاش سمجھی جاتی ہے۔اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بَدَعَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا 3 یعنی پہلے بھی ایسے ہی لوگوں نے اسلام کی مدد کی تھی