خطبات محمود (جلد 37) — Page 551
خطبات محمود جلد نمبر 37 551 $1956 سپرد نہیں کر دیتے۔اگر اُن کا روپیہ ان کی تائید میں ہے تو کیوں وہ یہ نہیں کرتے کہ جتنا چندہ وہ انجمن کو دیتے ہیں اُتنا ہی چندہ وہ ان کو بھی دیا کریں تا کہ دونوں برابر مقام پر آ جائیں اور ان کو بھی تسلی ہو جائے۔اگر وہ ایسا کر دیں تو یہ ان کی سچائی کا ثبوت ہو گا ورنہ جب تک وہ یہ نہیں کرتے ان کی یہ باتیں محض منہ کی لاف زنی ہیں اور اس کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہیں ہو گا کہ وہ خدا تعالیٰ اور اُس کے فرشتوں کے لیے ہنسی اور حقارت کا موجب بن جائیں گے۔خدا تعالیٰ کے فرشتے بھی کہتے ہوں گے کہ کس جوش سے یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہماری اسی کی حاضر ہے لیکن اسٹیج دیتے نہیں۔مثلاً پہلے تو یہ کریں کہ اب عنقریب ان کا جلسہ سالانہ ہو نے والا ہے۔اس میں جتنے لوگ پہلے تقریریں کیا کرتے تھے اُن کی تقریریں منسوخ کر کے ان لوگوں کو تقریریں کرنے کا موقع دیں۔اور اگر ان کی تنظیم ان لوگوں کی تائید میں ہے تو پھر انجمن کی اکثر ممبریاں ان لوگوں کو دے دیں کیونکہ جب تنظیم ان کے سپرد کی گئی ہے تو کچھ ممبریاں ان کو بھی ملنی چاہیں۔میراثی والا کام تو نہ کریں جس کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ اُس کے کسی حجمان نے ایک گائے اسے تحفہ کے طور پر دی ہے۔اس پر ایک اور حجمان نے اُسے خواب میں کہا کہ تمہارے پاس گائے ہے؟ میراثی نے کہا ہاں ہے۔کہنے لگا تم میرے پاس بیچ دو۔میراثی نے کہا دس روپے دے دو میں گائے دے دیتا ہوں۔اُس ججمان نے کہا دس روپے بہت ہیں چار آنے لے لو۔میراثی کہنے لگا چار آنے! بھلا چار آنے میں بھی کبھی گائے آئی ہے؟ جہان نے کہا تمہیں بھی تو مفت ملی ہے۔میراثی نے کہا مفت تو ملی ہے لیکن ہے تو گائے۔اس پر اُس نے کہا پانچ آنے لے لو۔میراثی نے کہا میں پانچ آنے نہیں لوں گا۔بھلا کبھی گائے بھی پانچ آنے میں آتی ہے؟ دوسرا شخص کہنے لگا تمہیں بھی تو مفت ملی ہے۔میراثی نے کہا مفت بیشک ملی ہے لیکن مفت ملنے کی وجہ سے گائے میں تو فرق نہیں پڑ جاتا۔وہ کہنے لگا اچھا ساڑھے پانچ آنے لے لو۔میراثی کہنے لگا دس نہیں دیتے تو کو دے دو۔پھر اُس جمان نے کہا اچھا چھ آنے لے لو۔میراثی نے کہا اچھا تو بھی نہیں تو آٹھ دے دو۔ججہان نے کہا ساڑھے چھ آنے لے لو۔میراثی اور نیچے آ گیا اور کہنے لگا چلو سات روپے ہی دے دو۔