خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 498

$1956 498 خطبات محمود جلد نمبر 37 میں نے پچھلے دنوں نمازوں میں آنا بھی بند کر دیا۔اب اگر چہ طبیعت پہلے سے اچھی ہے مگر ابھی تک ضعف پایا جاتا ہے۔مگر پھر بھی میں جمعہ پڑھانے کے لیے آ گیا ہوں۔پچھلے خطبہ جمعہ میں میں نے تحریک جدید کے نئے سال کے چندہ کا اعلان کیا تھا اور آج پھر میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ تحریک جدید کی ذمہ داری بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اس لیے دوستوں کو چاہیے کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدے لکھوائیں تا کہ تحریک جدید کے دفتر کو اس بات کا اطمینان ہو جائے کہ اگلے سال ان کا کام آسانی سے چل سکے گا۔طبیعت کی خرابی کی وجہ سے جو خطبہ پچھلے جمعہ میں میں نے دیا تھا وہ میں سن نہیں سکا تھا جس کی وجہ سے وہ خطبہ ابھی تک شائع نہیں ہو سکا۔کچھ عرصہ سے میرے خطبات بغیر میرے دیکھنے کے شائع ہو رہے ہیں اور صیغہ زود نویسی کی طرف سے اُن پر یہ نوٹ دے دیا جاتا ہے کہ یہ خطبہ صیغہ اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے۔اب اگر چہ میں نے خطبات سننے شروع کر دیئے ہیں لیکن بیماری کی وجہ سے چونکہ جو دوائیں مجھے دی جاتی ہیں وہ خواب آور ہوتی ہیں اس لیے خطبہ کے کچھ حصے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اونگھ میں ہی گزر جاتے ہیں جس کی وجہ سے اگر کوئی غلطی ہو تو میں اُس کی اصلاح نہیں کر سکتا۔اس لیے محکمہ انہیں اپنی ذمہ داری پر ہی شائع کر دیتا ہے۔اسہال کی وجہ سے بھی جو دوائیں مجھے دی جا رہی ہیں وہ ایک حد تک خواب آور ہوتی ہیں۔کیونکہ ان دواؤں کی غرض یہ ہے کہ انتڑیوں کو حرکت سے روکا جائے اور اس کے لیے جو دوائیں دی جاتی ہیں وہ مُسکن ہوتی ہیں۔اس لیے میں کوئی مضمون پوری توجہ سے نہیں سن سکتا۔اونگھ آنے کی وجہ سے کئی حصے اوجھل ہو جاتے ہیں۔گھر میں میری بیوی اگر کوئی خط سناتی ہیں تو بعض دفعہ چونکہ اونگھ آ جاتی ہے اس لیے مجھے دوبارہ پوچھنا پڑتا ہے کہ کیا بات ہے۔اور جب تک میں اُن حصوں کو جو اونگھ کی حالت میں گزر جاتے ہیں بیداری کی حالت میں دوبارہ نہ سن لوں مضمون پوری طرح ذہن میں مستحضر نہیں ہوتا اور اگر کوئی غلطی ہو تو میں اُس کی طرف سنانے والے کو توجہ نہیں دلا سکتا۔بہر حال میری طبیعت کے خراب ہونے کی وجہ سے خطبہ سنانے پر بھی دیر لگی۔آج صبح میں نے خطبہ سن لیا ہے اور انشَاءَ اللہ کل یا پرسوں الفضل میں چھپ