خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 467

$1956 467 خطبات محمود جلد نمبر 37 کیا دو گے؟ وہ دنیا کی تمام چیزوں کے نام لیتا چلا گیا اور کہتا گیا کہ ہم یہ بھی دیں گے اور وہ کی بھی دیں گے۔چنانچہ انہوں نے قلعہ کا دروازہ کھول دیا اور کہا کہ مسلمانوں کا ہم سے معاہدہ ہے۔جب کمانڈر انچیف کو اس کی خبر ملی تو اُس نے کہا یہ تو بڑا ظلم ہوا ہے۔اتنی مدت تک ہم نے لڑائی کی اور ہمارے اتنے آدمی مارے گئے اور اس کے بعد یہ غلام سب کچھ دے کر آ گیا ہے۔انہوں نے حضرت عمرؓ کی خدمت میں لکھا کہ یہ معاہدہ ہو گیا ہے۔ہم نے بہتیرا کہا ہے کہ یہ غلام ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ تم نے کب اعلان کیا تھا کہ غلام سے معاہدہ نہیں ہو نا۔ہم اپنے معاہدہ پر قائم ہیں تم اگر چاہو تو بیشک توڑ دو۔حضرت عمرؓ نے لکھا یہ لوگ ٹھیک کہتے ہیں۔اگر تم نے معاہدہ توڑا تو ان پر یہ اثر ہوگا کہ مسلمانوں میں غلام اور آزاد میں فرق رکھا جاتا ہے۔اس لیے اب کے تم مان لولیکن آئندہ کے لیے اعلان کر دو کہ معاہدہ ہمیشہ کمانڈر انچیف کے ذریعہ ہوا کرے گا۔4 چنانچہ وہ معاہدہ مان لیا گیا۔اس طرح دور دور کی قوموں پر یہ اثر ہوا کہ اسلام میں غلام اور آزاد میں کوئی فرق نہیں رکھا جاتا اور اسلام کا فیض تمام بنی نوع انسان تک وسیع ہے۔اسی طرح جب بیت المقدس کو مسلمانوں نے فتح کیا تو ایک دفعہ عیسائی لشکر پھر اس پرحملہ آور ہوا اور مسلمانوں کو نظر آیا کہ ہمیں یہ علاقہ چھوڑنا پڑے گا۔مسلمان کمانڈر نے شہر کے رؤساء کو بلایا اور کہا ہم نے جو تم سے سالانہ ٹیکس لیا تھا وہ اس غرض کے لیے تھا کہ تمہاری جانوں کی حفاظت کریں لیکن اب عیسائی لشکر اتنی طاقت میں ہے کہ ہم اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ہم کچھ مدت کے لیے پیچھے ہٹنے لگے ہیں اس لیے تمہارا ٹیکس واپس کیا جاتا ہے۔اُس نے وقت دنیا میں عام دستور یہ تھا کہ فاتح قوم جب کسی شہر میں داخل ہوتی تو اُسے ٹوٹتی تھی اور جب نکلتی تھی تب بھی ٹوٹتی تھی۔یہاں یہ ہوا کہ جب انہوں نے شہر فتح کیا تب بھی نہ ٹوٹا اور جب واپس آئے تب بھی بجائے ٹوٹنے کے انہوں نے ٹیکس کا سارا روپیہ واپس کر دیا۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ عیسائیوں پر اس کا ایسا اثر ہوا ہے کہ وہ شہر سے باہر کئی میل تک مسلمانوں کو چھوڑنے آئے اور روتے جاتے تھے اور دعائیں کرتے جاتے تھے کہ خدا تم کو پھر ہمارے ملک میں واپس لائے۔تمہارے جیسے امن پسند لوگ ہم نے کبھی نہیں دیکھے۔