خطبات محمود (جلد 37) — Page 445
$1956 445 خطبات محمود جلد نمبر 37 کیونکہ خواہ پنڈت نہرو کے دل میں نیکی ہو اُن کے اردگرد جو لوگ ہیں وہ کٹر ہندو ہیں۔انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق کوئی عمل کیا تو اُن کے ساتھیوں نے شور مچا دینا ہے کہ تم کون ہو جو ہمیں اس بات سے روکتے ہو۔پس میرے نزدیک اصل طریق یہ ہے کہ چونکہ اس کتاب کا مصنف عیسائی ہے اور امریکہ کا رہنے والا ہے اس لیے اس کے جواب میں جو کتاب لکھی جائے اُس کا ایک ایڈیشن انگریزی میں ہو جو امریکہ میں شائع کیا جائے۔اس میں ایک طرف تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع ہو یعنی اُن اعتراضات کا جواب ہو جو اس کتاب میں محمد رسول اللہ کی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیے گئے ہیں اور دوسری طرف عیسائیوں کو الزامی جواب دیا جائے اور پھر اُس کا دوسرا ایڈیشن ہندوستان میں شائع کیا جائے۔اس میں بھی ایک طرف تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع ہو یعنی اُن اعتراضات کا جواب ہو جو آپ کی ذات پر اس کتاب میں کیے گئے ہیں اور دوسری طرف ہندو مذہب کو مدنظر رکھتے ہوئے الزامی جواب ہوتا ہندوؤں کو بھی ہوش آ جائے اور آئندہ وہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے میں احتیاط سے کام لیں۔پھر اگر اس کتاب کا مصنف زندہ ہو (ممکن ہے وہ مر گیا ہو کیونکہ اس کتاب کو شائع ہوئے انتیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے تو ہمارے مبلغ اُسے مباہلہ کا چیلنج دیں اور کہیں کہ اگر وہ سچا ہے اور عیسائی لوگ اُس کے ساتھ ہیں تو وہ پچاس عیسائی اپنے ساتھ لے آئے۔ہم بھی اپنے ساتھ پچاس کو مسلم لے آتے ہیں اور پھر وہ ہم سے مباہلہ کرے۔اگر حضرت عیسی علیہ السلام میں طاقت ہوئی تو وہ انہیں بچالیں گے اور اگر ہمارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجنے والے خدا میں طاقت ہوئی تو وہ انہیں تباہ کر دے گا۔اس مباہلہ کے بعد جب عیسائیوں پر خدائی عذاب نازل ہوا تو ثابت ہو جائے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام میں کوئی خدائی طاقت نہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجنے والا خدا اب بھی زندہ ہے۔گو آپ کی وفات پر تیرہ سوسال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر وہ اب بھی آپ کی حفاظت کرتا ہے۔اور اگر وہ لوگ مباہلہ کے لیے نہ آئیں تو جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈوئی کے متعلق پرو پیگنڈا کیا تھا اُس کے متعلق بھی ملک بھر میں پرو پیگینڈا کیا جائے۔اس سے اسلام