خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 442

$1956 442 خطبات محمود جلد نمبر 37 غرض مرنا آسان ہوتا ہے لیکن مشکلات کو متواتر برداشت کرتے چلے جانا مشکل ہوتا 66 - ہے لیکن بہر حال جب مقابلہ کا سوال ہو تو روپیہ کا خرچ ایک طبعی امر ہے۔اب بھی ہندوستان میں لکھ پتی مسلمان موجود ہیں۔وہ چندہ کر کے ”مذہبی رہنما کا جواب شائع کر دیتے اور ثابت کرتے کہ اس کا لکھنے والا جھوٹا ہے۔پھر اگر ہندوؤں نے اس کی دس ہزار کا پی شائع کی تھی تو مسلمان اس کا جواب دس لاکھ کی تعداد میں شائع کر دیتے اور سارے ملک میں پھیلا دیتے۔اس سے ہندوؤں کا منہ بند ہو جاتا اور وہ سمجھ لیتے کہ آئندہ مسلمانوں کو نہیں چھیڑنا چاہیے۔اگر ہم انہیں چھیڑیں گے تو وہ نہ صرف اپنا دفاع کریں گے بلکہ ہمارے مذہب کی بھی قلعی کھولیں گے۔کیونکہ یہ یقینی بات ہے کہ ہم نہ صرف اُن کے اعتراضات کا جواب دے سکتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اُن کا الزامی جواب بھی دے سکتے ہیں۔ہندوؤں کی کتابوں میں اُن کے دیوتاؤں کے متعلق اس قدر گند بھرا ہوا ہے کہ اگر اُسے ظاہر کیا جائے تو انہیں منہ چھپانے کے لیے جگہ نہ ملے۔مثلاً کیا کوئی الہامی مذہب یہ کہہ سکتا ہے کہ فلاں دیوتا کی کسی عورت پر نظر پڑ گئی۔بعد میں اس نے اپنا تہہ بند جھاڑا تو اس میں سے بچہ پیدا ہو گیا۔یہ اتنی شرمناک بات ہندوؤں کی کتابوں میں درج ہے کہ مجھے خطبہ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔بہر حال ہندوؤں کی کتابوں میں اس قدر گند موجود ہے کہ اگر اُسے ظاہر کیا جائے تو ہندوؤں میں تاب نہیں کہ وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں کھڑے ہو سکیں۔پس اگر موقع پر مسلمان چندہ جمع کر کے اس کتاب کا جواب شائع کرتے اور اس کے ساتھ ہی ہندوؤں کی کتابوں کا گند ظاہر کرتے تو انہیں پتا لگ جاتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر حملہ کرنے کے کیا معنی ہیں۔خود ان کے نبی حضرت کرشن علیہ السلام کے متعلق اُن کی کتابوں میں گند بھرا ہوا ہے اور لکھا ہے کہ کس کس طرح وہ عورتوں سے کھیلتے تھے۔پھر ایک اور ننگا واقعہ ہے مگر میں خطبہ میں اُس کی تفصیل بیان نہیں کر سکتا۔صرف مجملاً بیان کر دیتا ہوں کہ ایک دفعہ میں بنارس گیا وہاں میں نے ہندوؤں کا ایک مندر دیکھا۔اُس پر ایک سیڑھی لگی ہوئی تھی۔اُس سیڑھی پر ہر جگہ اس قدر نگی تصویریں بنی ہوئی تھیں کہ میں نہیں سمجھتا انہیں کوئی ہندو بھی بیان کر سکے۔ایک کٹر ہندو بھی اُن کا ذکر کرتے ہوئے شرم محسوس