خطبات محمود (جلد 37) — Page 431
خطبات محمود جلد نمبر 37 431 $1956 ضرورت نہیں وہ آپ ہی بھوک سے بیتاب ہو کر گھر آئے گا۔چنانچہ شام ہوئی تو دھوبی بھوک لگی۔وہ سارا دن اس انتظار میں رہا تھا کہ اُس کے بیٹے آئیں گے اور اُسے منا کر لے جائیں گے لیکن وہ نہ آئے۔اب پیٹ تو کسی کی بات مانتا نہیں۔اُسے بھوک لگی تو اُس نے گھر واپس جانے کی ایک تجویز سوچی۔دھوبی کے جانور کا قاعدہ ہے کہ وہ چونکہ روزانہ کپڑے لے کر گھاٹ پر جاتا ہے اور شام کو گھر واپس آتا ہے اس لیے اگر اُسے گھلا چھوڑ دیا جائے تو وہ سیدھا گھر میں آ جاتا ہے ادھر ادھر نہیں جاتا۔چنانچہ اُس نے اپنے بیل کو کھلا چھوڑ دیا اور اُس کی دُم پکڑ لی اور اس کے ساتھ ساتھ گھر کی طرف چل پڑا۔جب وہ گھر میں گھسنے لگا تو اُسے شرم محسوس ہوئی کہ میں نے تو کہا تھا کہ میں اس گھر میں کبھی نہیں آؤں گا اور اب آپ ہی آ گیا ہوں۔اس لیے اُس نے بیل سے کہنا شروع کر دیا کہ جانے بھی دو، تم تو مجھے خود ہی کی گھسیٹ کر گھر لے آئے ہو ورنہ میں نے تو نہیں آنا تھا۔اس طرح وہ اپنے گھر میں داخل ہوتی گیا۔جس طرح وہ بیل خود ہی گھر آ گیا تھا اسی طرح ہدایت بھی جانتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا گھر کونسا ہے اور وہ سیدھی اُس گھر میں پہنچ جاتی ہے۔پس عَلى هُدًىی کے معنے یہی ہیں کہ ایک دفعہ مومن ہدایت پر سوار ہو جائے تو پھر وہ کبھی دھوکا نہیں کھا سکتا۔اسے یہ خوف نہیں ہو گا کہ وہ کسی اور کے گھر نہ چلا جائے بلکہ ہدایت خود بخود خدا تعالیٰ کے گھر میں پہنچ جائے گی کیونکہ اُسے علم ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے گھر سے ނ آئی ہے اور اُس کے گھر اس نے جانا ہے۔پس اگر تم قرآن کریم کو اس یقین سے پڑھو گے کہ اس میں ہر اعتراض کا جواب موجود ہے تو اس کے مطالب تم پر اس طرح کھلیں گے کہ تمہیں حیرت آئے گی کہ بغیر کسی۔پوچھے ہدایت تمہیں آپ ہی آپ خدا تعالیٰ کے گھر لے جا رہی ہے۔وہ نہ ادھر منہ موڑے گی اور نہ اُدھر منہ موڑے گی بلکہ سیدھی خدا تعالیٰ کے گھر لے جائے گی اور جب انسان خدا تعالیٰ کے گھر پہنچ جاتا ہے تو وہ ساری بدیوں اور ساری گمراہیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔1 : فَأَلْقْهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعَى (طه: 21) الفضل 14 اکتوبر 1956 ء)