خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 416

$1956 416 خطبات محمود جلد نمبر 37۔ہر مسلمان جب بھی اہلِ کتاب کا لفظ قرآن کریم میں پڑھتا ہے کہتا ہے کہ اس سے یہودی اور عیسائی مراد ہیں۔حالانکہ یہ حکم مسلمانوں کے لیے بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ یہود کے لیے۔اور اس میں ایک اعلیٰ درجہ کا نکتہ بتایا گیا ہے جس سے ہر انسان فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ دیکھو! تم پر ہماری طرف سے بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہے اور تمہیں ہمارے سامنے ان ذمہ داریوں کے متعلق جواب دینا پڑے گا۔ہم تمہیں اپنی حفاظت کا ایک طریق بتاتے ہیں اور تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ قرآن میں جو کچھ کیا گیا ہے اس پر ایمان لاؤ اور پھر ایمان لا کر متقی لوگوں کی طرح اس پر عمل کرو بہانہ سازیاں نہ کرو۔جیسے ہندو سخت سردی کے موسم میں بعض دفعہ غسل سے بچنے کے لیے بہانہ سازی سے کام لینے لگ جاتے ہیں۔لطیفہ مشہور ہے کہ ایک دن سخت سردی میں صبح سویرے ایک برہمن اشنان کرنے کے لیے دریا کی طرف چل پڑا۔سردی کی وجہ سے اُس کا جی نہیں چاہتا تھا کہ اشنان کرے۔مگر ساتھ ہی سمجھتا تھا کہ اگر آج میں نہ نہایا تو سارے گاؤں میں بدنام ہو جاؤں گا اور لوگ کہیں گے کہ اس نے اشنان نہیں کیا۔اس خیال میں وہ جا رہا تھا کہ اُسے رستہ میں ایک اور برہمن ملا جو دریا سے واپس آ رہا تھا۔وہ اُس سے کہنے لگا کہ پنڈت جی! آج تو بڑی سردی ہے۔اس نے کہا ہاں! بڑی سردی ہے۔کہنے لگا پھر آپ نے اشنان کس طرح کیا ہے؟ اُس نے کہا میں دریا پر گیا تو میں نے ایک کنکر اُٹھا کر دریا میں پھینک دیا اور میں نے کہا ” تو را آشنان سو مورا اشنان“۔یعنی اسے کنکر ! جب تو نے غسل کر لیا تو میرا غسل بھی ہو گیا۔اور یہ کہہ کر میں واپس آ گیا۔اس پر اُس نے وہی زمین پر سے ایک کنکر اُٹھا کر اُس کی طرف پھینکا اور کہنے لگا تو را آشنان سومورا اُشنان یعنی تیرا غسل ہو گیا تو پھر تیرے غسل کی وجہ سے میرا غسل بھی ہوتی گیا۔اب مجھے دریا پر جانے کی ضرورت نہیں رہی۔اسی طرح بعض لوگ بات تو مان لیتے ہیں مگر بہانہ سازی ترک نہیں کرتے اور ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ جس طرح بھی حکم کو ٹالا جا سکے اُسے ٹال دیا جائے۔ہماری فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ عید کی نماز صرف شہر میں ہوتی ہے شہر سے باہر