خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 377

$1956 377 خطبات محمود جلد نمبر 37 جس میں موجودہ فتنہ کی کئی تفاصیل بیان کی گئی ہیں۔اسی طرح ایک رؤیا 1946 ء کے الفضل میں چھپی ہوئی ہے جس میں اس فتنہ میں حصہ لینے والے بعض آدمیوں کا علاقہ بھی بتایا گیا کی ہے۔مثلاً ایک رؤیا میں بتایا گیا ہے کہ جماعت میں بیداری پیدا ہونے پر چاروں طرف سے لوگوں نے آنا شروع کیا اور ان جمع ہونے والے لوگوں میں میں نے شہر سیالکوٹ کے کچھ لوگوں کو پہچانا ہے۔ان لوگوں کے ساتھ کچھ وہ لوگ بھی آگئے جو باغی تھے۔اور اللہ رکھا بھی ضلع سیالکوٹ کا ہی رہنے والا ہے۔اب یہ ساری باتیں آج سے اکیس سال پہلے کون بتا سکتا تھا؟ پھر ایک رؤیا 1950ء کی ہے۔وہ بھی اس فتنہ میں حصہ لینے والوں کی خبر دیتی ہے۔جب میں کوئٹہ گیا تو اتفاق سے میری ایک لڑکی امتہ الحکیم بیگم بھی میرے ساتھ تھی۔اُس نے مجھے لکھا کہ آپ کوئٹہ کی خوا ہیں نکلوا کر دیکھیں۔مجھے یاد ہے کہ اُن میں اس فتنہ کا بھی ذکر تھا۔چنانچہ جب وہ خواہیں نکلوائی گئیں تو ان میں سے ایک خواب میں صراحتاً یہ ذکر تھا کہ خلافت کے خلاف ایک فتنہ اُٹھایا گیا ہے اور مجھے فتنہ اُٹھانے والے کا نام بھی بتایا گیا مگر میں نے کہا کہ میں اس کا نام بتاتا نہیں۔صرف اتنا بتا دیتا ہوں کہ وہ شخص میرا رشتہ دار ہے۔مگر اُس کی رشتہ داری میری بیویوں کی طرف سے ہے۔اب بتاؤ کہ 1950ء میں یعنی آج سے چھ سال قبل خدا تعالیٰ کے سوا اور کونسی ہستی تھی جو بتا سکے کہ خلافت کے خلاف ایک فتنہ اُٹھایا جائے گا اور فتنہ اُٹھانے والوں میں میرے بعض رشتہ دار بھی شامل ہوں گے جو میری بیویوں کی طرف سے ہوں گے یعنی میرے سالے اس میں ملوث ہوں گے۔پھر اس رویا میں بیویوں کا لفظ استعمال کیا گیا تھا جس میں اس طرف بھی اشارہ تھا تی کہ ایک سے زیادہ بیویوں کے رشتہ داروں کی طرف سے یہ فتنہ اٹھایا جانے والا ہے۔چنانچہ میری ایک دوسری بیوی کی طرف سے بعض رشتہ داروں نے بھی اس میں حصہ لیا اور انہوں نے رؤیا کا یہ دوسرا حصہ پورا کر دیا کہ میرے بعض بیٹوں کی تعریف کی گئی ہے۔مگر میں رویا میں کہتا ہوں کہ میں ایسا بیوقوف نہیں ہوں کہ اپنے بیٹوں کی تعریف سن کر دھوکا میں آ جاؤں۔چنانچہ راجہ علی محمد صاحب ریٹائر ڈالی۔اے سی جو بعد میں ناظر اعلیٰ بھی رہے اُن کے ایک داماد نے