خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 25

$1956 25 25 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس قسم کی باتیں کرتا ہے تو مومن کو چاہیے کہ بجائے اس کے کہ وہ وہم کرے کہ وہ گورنمنٹ کا آدمی ہے وہ خدا تعالیٰ سے استغفار کرے۔ہاں! اگر وہ مرکز کو خبر دے دیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔دراصل یہ باتیں ایسی ہیں کہ ان کے لیے گورنمنٹ کو سی۔آئی۔ڈی مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔اگر کسی کو کسی بیرون ملک کی معرفت روپیہ آتا ہے تو حکومت کو اُس کا علم ہوتا ہے کیونکہ وہ روپیہ اُسی کے محکمہ کے ذریعہ آتا ہے۔پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ عقلمند قوم امریکہ ہے اور اس کا حکومتی مذہب عیسائیت ہے۔اب وہ کون پاگل حکومت ہو گی جو اپنے مذہب کے خلاف دوسروں کو روپیہ دے۔ہم تو حکومت امریکہ کے مذہب عیسائیت کے خلاف لڑتے ہیں اور اُن کے عقائد کو باطل قرار دیتے ہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کو یہود نے کہا کہ تمہیں بعل سکھاتا ہے ( بعل ایک بُت کا نام تھا جس سے یہودی لوگ عقیدت رکھتے تھے ) تو مسیح علیہ السلام نے جواب دیا کہ اے نادانو! میں تو بعل کے خلاف تعلیم دیتا ہوں۔پھر وہ مجھے اپنے خلاف باتیں کیوں سکھاتا ہے؟ کیا کوئی دوسرے کو اپنے مذہب کے خلاف باتیں سکھاتا ہے؟ پھر تم میرے متعلق یہ خیال کیسے کر سکتے ہو کہ بعل مجھے سکھاتا ہے جبکہ میں اُس کے خلاف تعلیم دیتا ہوں۔2 اب دیکھو! یہ کتنی موٹی دلیل ہے۔اسی طرح ہم بھی کہتے ہیں۔مگر کیا امریکہ کی عقل ماری گئی ہے کہ وہ ہمیں روپیہ دے حالانکہ ہم اس کے مذہب کے خلاف تبلیغ کر رہے ہیں۔اور وہ دن دور نہیں جب ہم اس کے مذہب کو توڑ کے رکھ دیں گے۔وہ دن دور نہیں جب احمدیہ کے ذریعہ امریکہ میں عیسائیت پاش پاش ہو جائے گی اور اسلام قائم ہو جائے گا۔وہ دن دور نہیں جب مسیح کو امریکہ کے تخت سے اُتار دیا جائے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تخت پر بٹھا دیا جائے گا۔جب وہ زمانہ آجائے گا تو حکومت امریکہ بیشک ہمیں امداد دے گی اور نہ ی صرف ہمیں حکومت امریکہ امداد دے گی بلکہ وہ ہمارے آگے ہاتھ جوڑے گی کہ خدا کے لیے ہم سے مدد لو اور ہمیں ثواب سے محروم نہ رکھو۔مگر آج وہ ہمیں مدد نہیں دے سکتی۔کیونکہ آج کی اُسے نظر آ رہا ہے کہ ہم اُس کے مذہب کے خلاف تقریریں کرتے ہیں اور کتابیں لکھتے ہیں۔