خطبات محمود (جلد 37) — Page 346
خطبات محمود جلد نمبر 37 346 $1956 وہ استغفار نہ کرے اور توبہ اور انابت الی اللہ سے کام نہ لے۔گویا وہ جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے کہا ہے وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کر ہی نہیں سکتے وہ تو دن کو بھی اور رات کو بھی ، صبح کو بھی اور شام کو بھی ، پہلی رات کو بھی اور پچھلی رات کو بھی انسان کے لیے استغفار میں لگے رہتے ہیں اور جس کا فرض ہے وہ خاموشی سے بیٹھا رہتا ہے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ اس کے لیے کتنی شرم کی بات ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ فرشتوں کو میرے گناہوں کی ضرورت ہے اس لیے میرا فرض ہے کہ میں ان کے لیے گناہ کرتا رہوں۔جیسے دنیا میں غریب سے غریب آدمی پر بھی اپنے گھریلو اخراجات کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن جب مرد کما کر لاتا ہے تو بیوی اُس کا کھانا تیار کرتی ہے۔گویا انہوں نے اپنی سہولت کے لیے کام کو تقسیم کیا ہوتا ہے۔مرد روپیہ کما کر بیوی کی ضرورت کو پورا کرتا ہے اور بیوی روٹی پکا کر مرد کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔پس اگر ملائکہ استغفار کریں اور انسان چپ کر کے بیٹھا رہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ اپنے دل میں یہ سمجھتا ہے کہ جس طرح مرد کو بیوی کی مدد کی اور بیوی کو مرد کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح فرشتوں کو میرے گناہوں کی ضرورت ہے میں ان کی طرف سے گناہ کرتا رہوں اور وہ میری طرف سے استغفار کرتے رہیں اور اس طرح دونوں کا کام چلتا رہے حالانکہ جن کو خدا تعالیٰ نے بنایا ہی ایسا ہے کہ وہ گناہ نہیں کر سکتے انہیں انسانوں کے گناہوں کی کیا ضرورت ہے۔انسان گناہ کرتا ہے تو اپنی ضروریات اور میلانات کو پورا کرنے کے لیے کرتا ہے اور ملائکہ کے خلاف کام کرتا ہے۔مگر پھر بھی وہ اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور یہ خاموش بیٹھا خوش ہو رہا ہوتا ہے کہ ملائکہ میرا کام کر رہے ہیں۔گویا اس کی مثال بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسے ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ہاں دانے لے کر گئی اور اُس سے کہا بہن! اپنی چکی دے تاکہ میں دانے پیس لوں۔اُس عورت کو دوسروں کی خدمت کرنے کا بڑا شوق تھا۔وہ کہنے لگی تم پر بوجھ پڑے گا تم مجھے دانے دے دو میں خود پیس دیتی ہوں۔وہ اُس وقت بیٹھی روٹی پکا رہی تھی کچھ روٹیاں پکا چکی تھی اور کچھ باقی رہتی تھیں۔وہ اُٹھی اور اُس نے دانے پینے شروع کر دیئے مگر درمیان میں تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آتی اور پھل کا پکا کر پھر دانے پینے شروع کر دیتی۔