خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 306

$1956 306 خطبات محمود جلد نمبر 37 تیرہ سو سال ہو چکے تھے۔ملک پر انگریزوں کی حکومت تھی اور عبداللہ آتھم انگریزی حکومت کا ایک افسر تھا۔اُس نے آپ کی شان میں گستاخی کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُسے کہا دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خدا اب بھی زندہ خدا ہے اور وہ تمہیں اس گستاخی کی سزا دے گا تو وہ کہنے لگا میری توبہ میں نے ایسی گستاخی نہیں کی۔پس یاد رکھو! اسلام کا خدا ایک زندہ خدا ہے اور وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔اور پھر اس امر کو بھی اچھی طرح یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں طاقت عطا کی ہے یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ہے۔پھر اس نے اکثر کام میرے ہاتھ کرائے ہیں لیکن جماعت کے بعض لوگوں نے اس کی قدر نہیں کی بلکہ جب خدا تعالیٰ نے انہیں تعداد میں زیادہ کر دیا تو وہ منافق بن گئے۔وہ نہیں جانتے کہ اگر انہوں نے راستی کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ ان کو کچل کر رکھ دے گا اور ستر ستر نسل تک ان کی اولاد ان پر لعنت کرے گی اور کہے گی کہ ان کے آباء و اجداد فتنہ پرداز تھے جنہوں نے منافقت دکھائی اور ہمیں بدنام کر دیا۔اگر وہ اپنے وعدوں پر قائم رہتے اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری نہ کرتے تو وہ منافقت نہ دکھاتے۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ تم تعداد میں بہت تھوڑے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے بڑھایا؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جو آخری جلسہ سالا نہ ہوا اُس میں شامل ہونے والوں کی تعداد سات سو تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کو دیکھ کر اس قدر خوش ہوئے کہ فرمایا اب تو جماعت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے سپرد جو کام تھا وہ پورا ہو گیا ہے۔پھر حضرت خلیفہ اول کے زمانہ خلافت کے آخری جلسہ سالانہ پر دس گیارہ سو دوست جمع ہوئے مگر اب عیدین کے موقع کی پر بلکہ بعض اوقات جمعہ کی نماز میں ہی دو دو ہزار دوست آ جاتے ہیں۔یہ ترقی خدا تعالیٰ نے ہی تمہیں عطا کی ہے۔اگر تم نے اس کی ناشکری کی تو یاد رکھو! جو خدا تمہیں بڑھا سکتا ہے وہ گھٹا بھی سکتا ہے۔تمہارا کام تھا کہ تم اس وقت تو بہ کرتے خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے اور کہتے اے خدا! تو نے ہی ہمیں بڑھایا ہے اور ہم تیری اس نعمت کا فی شکر ادا کرتے ہیں اور تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ تو ہمیں کم نہ کرنا بلکہ ہمیشہ بڑھاتے چلے۔