خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 307

$1956 307 خطبات محمود جلد نمبر 37 تا کہ ہم تیرے نام کو بلند کرتے رہیں اور تیری توحید کو دنیا میں پھیلاتے رہیں“۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: باوجود بیماری کے میں عید پڑھانے یہاں آ گیا تھا۔کل خطبہ کی وجہ سے طبیعت پر بوجھ بھی پڑا۔پھر کل اتفاقاً گرمی زیادہ تیز تھی جس کی وجہ سے صحت خراب ہو گئی لیکن مجھے خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دو سال کے بعد یہاں عید پڑھانے کا موقع دے دیا۔دو سال سے میرا یہاں عید نہ پڑھانا جماعت کے لیے بڑے صدمے کا موجب تھا۔اس لیے میں تکلیف اُٹھا کر بھی یہاں آ گیا تا کہ دوستوں کے دل خوش ہوں۔نماز کے بعد میں ایک جنازہ پڑھاؤں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک پرانے صحابی قاضی محبوب عالم صاحب لاہور کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ان کی یہ عادت تھی کہ وہ آپ کو ہر روز دعا کے لیے خط لکھا کرتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک جگہ پر شادی کرنا چاہتے تھے لیکن فریق ثانی رضا مند نہیں تھا۔اس لیے وہ روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھتے کہ حضور دعا فرمائیں کہ یا تو لڑکی مجھے مل جائے یا اللہ تعالیٰ میرا دل اُس سے پھیر دے۔اب مجھے یاد نہیں رہا کہ آیا ان کا دل پھر گیا تھا یا ان کی اس لڑکی سے شادی ہو گئی تھی۔بہر حال دونوں میں سے ایک بات ضرور ہو گئی تھی۔پھر نہ صرف وہ خود اس نشان کے حامل تھے بلکہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور شخص کو بھی اپنے نشان کا حامل بنایا۔ہمارے ایک دوست ماسٹر عبدالعزیز صاحب تھے جنہوں نے قادیان میں طبیہ عجائب گھر کھولا ہوا تھا۔اس وقت ان کا لڑکا مبارک احمد دواخانہ چلا رہا ہے اور ان کی دوائیاں بہت مقبول ہیں۔انہوں نے قاضی محبوب عالم صاحب کے متعلق سنا کہ وہ ہر روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس قسم کا خط لکھا کرتے ہیں تو انہوں نے بھی روزانہ خط لکھنا شروع کر انہیں بھی ایک ذیلدار کی لڑکی سے جو اُن کے ماموں یا پھوپا تھے محبت تھی۔وہ روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھتے اور کہتے حضور! دعا فرمائیں کہ قاضی محبوب عالم صاحب کی طرح یا تو میرا دل اس لڑکی سے پھر جائے اور یا پھر میری اس دیا۔