خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 231

$1956 231 خطبات محمود جلد نمبر 37 سامان پیدا کر دیتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ میری بیماری سے پہلے جماعت کے نوجوان وہی تھے جو اب ہیں اور ان کے تعلقات بھی ویسے ہی تھے جیسے اب ہیں لیکن دعاؤں اور درود کی طرف ان کی زیادہ توجہ نہیں تھی۔لیکن جب میری بیماری کی خبریں شائع ہوئیں اور انہوں نے اپنے بزرگوں کو دیکھا کہ وہ دعائیں کر رہے ہیں تو انہوں نے بھی دعائیں کرنی شروع کر دیں۔پھر انہوں نے سنا کہ درود سے دعائیں زیادہ سنی جاتی ہیں اس پر انہوں نے بھی درود پڑھنا شروع کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تھے تو پچھیں چھپیں، چھتیس چھتیس سال کے لیکن پہلے انہیں کبھی رویا و کشوف ہوتے تھے لیکن ان دعاؤں اور درود کی کثرت کی وجہ سے میں دیکھتا ہوں کہ درجنوں احمدیوں کو بڑی اعلیٰ درجہ کی خواہیں آنی شروع ہو گئی ہیں اور ہر ڈاک میں ایسے کئی خطوط نکل آتے ہیں جن میں خوابیں درج ہوتی ہیں۔بعض دفعہ روزانہ پانچ پانچ ، چھ چھ خط اکٹھے آ جاتے ہیں اور بعض دفعہ ایک دو خط آ جاتے ہیں جن میں خوابیں درج ہوتی ہیں اور ان میں سے بعض اتنی شاندار ہوتی ہیں کہ اُن کے پڑھنے سے صاف پتا لگتا ہے کہ یہ خدائی رویا ہیں۔یہ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ چاہے میری بیماری کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئے لیکن بہر حال اُن کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔اور چاہے انہوں نے دعا کی قبولیت کے لیے ہی درود پڑھا مگر درود کی برکات سے انہیں حصہ مل گیا۔چنانچہ ان دعاؤں اور درود اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کے نتیجہ میں ایسی ایسی خواہیں دوستوں کو آ رہی ہیں کہ انہیں پڑھ کر حیرت آتی ہے اور ان کا لفظ لفظ بتا رہا ہوتا ہے کہ ہم سچی ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔اگر یہ تحفہ جو اُن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے اس سے ان کے اندر حقیقی لذتِ ایمان پیدا ہو گئی اور انہوں نے دعاؤں اور درود اور ذکر الہی کی عادت کو ترک نہ کیا تو یہ رؤیا و کشوف کا سلسلہ ان کے لیے مستقل طور پر جاری ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے فضل ان پر متواتر نازل ہونے شروع ہو جائیں گے۔ایک دفعہ ایک دوست جو ہماری جماعت کے ذریعہ ہندوؤں سے مسلمان ہوئے تھے ملنے کے لیے آئے اور انہوں نے کہا کہ میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔