خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 199

199 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ تم اس احسان کا بدلہ اُتارو۔یہ لڑکے ہوشیار تھے۔انہوں نے پتا لگا لیا کہ کس وقت حملہ ہونا ہے اور خود ان میں شامل ہو کر آگے آگے ہو گئے اور کہنے لگے چلو! ہم بتائیں کہ تم نے کسی گھر پر حملہ کرنا ہے۔مگر جب وہ گالیاں دیتے ہوئے قریب آتے تو کہتے اس مرزائی کے گھر میں کیا رکھا ہے۔چلو! ہم تمہیں اور گھر بتاتے ہیں جس کے سیف روپوں سے بھرے پڑے ہیں اور جہاں بڑا سامان ہے۔اس طرح وہ اُن کو واپس لے گئے اور آپ کا گھر بچ گیا۔غرض قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ہمارا احسان ہے کہ ہم نے مومنوں کے دلوں میں تیری محبت پیدا کر دی ہے اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پیدا کر دی ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمیں اس قسم کے نظارے بھی نظر آتے ہیں کہ نہ صرف مومنوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ہوتی ہے بلکہ جو مومن نہیں اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں میں بھی مومنوں کی محبت پیدا کر دیتا ہے۔جب احزاب کی جنگ ہوئی تو ایک عرب سردار نعیم بن مسعود اشجعی جو اسلام لا چکے تھے لیکن کفار کو ابھی اس کا علم نہیں تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے میں چاہتا ہوں کہ اس موقع پر کوئی خدمت کروں۔آپ مجھے اجازت دیں۔آپ نے فرمایا تمہیں اجازت ہے۔چنانچہ اس کے بعد وہ یہودیوں کے پاس گئے اور انہیں کہنے لگے تمہیں پتا ہے میں عربوں کا سردار ہوں اور ان کی مجالس میں ہمیشہ شامل ہوتا ہوں۔میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ قریش سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے ہم سے غداری کرنی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تم اپنے ستر آدمی چن کر انہیں ضمانت کے طور پر دے دو تاکہ اگر تم غداری کرو تو وہ انہیں قتل کر دیں۔میں تمہیں یہ مشورہ دینے آیا ہوں کہ اگر وہ تم سے یہ مطالبہ کریں تو تم بھی کہنا کہ تم اپنے ستر آدمی ہمیں دے دو تاکہ اگر تم غداری کرو تو ہم انہیں مار سکیں۔اور اگر وہ صرف تم سے مطالبہ کریں اور اپنے ستر آدمی تمہارے حوالے نہ کریں تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اُن کی نیت خراب ہے اور وہ تمہارے ساتھ ضرور غداری کریں گے۔اس کے بعد وہ عربوں کے پاس پہنچا ہ اور اُس نے اُن کے کان میں یہ بات ڈالی کہ یہودی مدینہ میں رہتے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اندر ہی اندر مل چکے ہیں۔وہ تمہارے ساتھ غداری۔