خطبات محمود (جلد 37) — Page 8
$1956 8 خطبات محمود جلد نمبر 37 پھر میں کہتا ہوں ہماری جماعت کو بھی چاہیے کہ وہ تجارت میں لگ جائے۔اس کے بعد میں کہتا ہوں یا کسی اور دوست نے مجھ سے کہا ہے کہ تاجر لوگ بہت کم چندہ دیتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ تاجروں کو شروع سے ہی تحریک کر کے چندہ کی عادت ڈالنی چاہیے۔رویا میں میں دیکھتا ہوں کہ گویا کوئی شخص مجھ سے کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تو احمدی تاجروں نے بڑی قربانی کی تھی۔چنانچہ اُس زمانہ میں سیٹھ عبدالرحمان صاحب مدراسی اور شیخ رحمت اللہ صاحب نے بہت بڑی خدمت کی تھی۔میں کہتا ہوں کہ تاجر طبقہ کو شروع سے ہی چندہ دینے کی عادت ڈالنی چاہیے تا کہ جوں جوں ان کی تجارت بڑھے چندے بھی بڑھیں اور سلسلہ کی مالی حالت مضبوط ہو۔پس جماعت کے جو امیر ہوتے ہیں ان کا صرف یہی کام نہیں ہوتا کہ وہ امیر کہلائیں۔بلکہ امیر بن جانے کے بعد اُن پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں۔مثلاً میں خلیفہ ہوں بظاہر میرا کام یہ نہیں کہ میں جماعت کے لوگوں کو یہ کہوں کہ تم زراعت کرو، تجارت کرو یا تعلیم حاصل کرو لیکن جماعت کے مستقبل کو مضبوط بنانے کے لیے میں وقتاً فوقتاً ایسی تحریکیں کرتا رہتا ہوں۔امیر کا بھی یہی کام ہے کہ وہ محض امیر نہ کہلائے بلکہ وہ ہر وقت یہ سوچتا رہے کہ جماعت کی اقتصادی، معاشی، دینی، تمدنی، تعلیمی اور اخلاقی حالت کو کس طرح ترقی دی جا سکتی ہے۔اس میں خدمت خلق کی عادت کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے۔امیر کی مثال گویا ایک چوراہا کی سی ہے جس سے دوسری سڑکیں پھٹتی ہیں۔جس طرح ایک چوراہا سے مختلف رستے علیحدہ ہوتے ہیں اور اس سے لوگ مختلف رستوں میں بٹ جاتے ہیں۔اسی طرح ہر جماعت کے امیر کو بھی چاہیے کہ وہ جماعت کے بعض لوگوں کو نوکریوں کی طرف لے جائے ، بعض کو تجارت پر لگائے ، بعض کو صنعت و حرفت کی طرف متوجہ کرے، بعض کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر زور دے اور مجموعی طور پر جماعت میں خدمت خلق کی عادت پیدا کرے۔گویا امیر صرف چوراہا ہی نہیں بلکہ وہ دس رہا، ہمیں راہا، پچاس راہا یا سو راہا ہو۔وہ جماعت کے دوستوں کو سینکڑوں طرف پھر اتا رہے۔امیر کی حیثیت ایک جرنیل کی سی ہے۔اور جرنیل کا صرف یہی کام نہیں ہوتا کہ دیکھے کہ سپاہی کس طرح چلتا ہے بلکہ وہ سپاہی کو مناسب طریق پر چلاتا ہے۔اسی طرح امیر کا بھی