خطبات محمود (جلد 37) — Page 9
$1956 9 خطبات محمود جلد نمبر 37 یہی کام ہے کہ وہ اپنی جماعت کے لوگوں کو مناسب اور مفید کاموں پر لگائے۔بعض کو نوکریوں پر لگا دے، بعض کو تجارتوں میں لگا دے، بعض کو صنعت و حرفت میں لگا دے۔غرض وہ جماعت کی اس طور پر تنظیم کرے کہ نہ صرف موجودہ جماعت کی مالی حالت سو گنا ترقی کر جائے بلکہ اس کی تعداد بھی سو گنا بڑھ جائے تا آئندہ آنے والا سال انہیں ایک مضبوط ستون کی طرح بنات دے۔پچھلے دنوں مجھے یہ پتا لگا تھا کہ لاہور کی جماعت کا چندہ چھیانوے ہزار روپے سالانہ ہے اور کراچی کا چندہ ایک لاکھ روپیہ۔لیکن اب مجھے بتایا گیا ہے کہ لاہور کی جماعت کا چندہ تو ایک لاکھ سے کچھ اوپر ہے اور کراچی کی جماعت کا چندہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ تک پہنچ چکا ہے۔اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح کوشش کرنے والوں کی مدد کرتا ہے۔پس تم جماعت کی اخلاقی، تمدنی اور مالی حالت کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے کی کوشش کرو۔ہماری جماعت کی توجہ تجارت کی طرف بہت کم ہے حالانکہ یہی ایک چیز ہے جو کسی جماعت یا قوم کو پھیلنے میں مدد دیتی ہے۔ہمارے کچھ آدمی جو باہر ہیں وہ تاجر ہی ہیں۔اس وقت انگلینڈ میں ڈیڑھ سو کے قریب ایسے لوگ ہیں جو پھیری وغیرہ کا کام کرتے ہیں۔ملازم ہر جگہ نہیں جا سکتا۔لیکن تجارت میں پھیلنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی گنجائش ہے۔تاجر کا کیا ہے اگر لوگ اُسے دکھ دیں تو وہ اپنا بیگ اُٹھاتا ہے اور کہتا ہے اچھا! ہم آگے چلے جاتے ہیں۔نوکر یہ نہیں کر سکتا کیونکہ اُس کی نوکری جاتی ہے۔اسی طرح زمیندار لوگ بھی ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی زمین پیچھے پڑی ہوئی ہوتی ہے لیکن تاجر اور پیشہ ور لوگ آزاد ہوتے ہیں۔وہ جہاں چاہیں اور جس وقت چاہیں جا سکتے ہیں۔دنیا میں جہاں جہاں بھی چھوٹے پیشوں اور تجارتوں کو بُرا نہیں سمجھا جاتا وہاں انہیں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔دیکھو! چند دن ہوئے فرانس میں عام انتخابات ہوئے ہیں۔ان میں چھوٹے تاجروں کی جماعت ہی میاب رہی ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ تاجر کسی کا دباؤ نہیں مانتا۔پس جماعت میں تجارت کی تحریک کرنی چاہیے۔چاہے وہ تجارت کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔یورپ میں تو بڑے بڑے تعلیم یافتہ لوگ پھیری کا کام کر لیتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ اس سے ترقی کر لیتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ وہ تھانیدار ہو جائے۔ہمارے ایک دوست تھے