خطبات محمود (جلد 37) — Page 183
$1956 183 خطبات محمود جلد نمبر 37 آپ کو محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی تھی۔جب بدر کی جنگ ہوئی تو صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں فتح ہوگی یا شکست۔اگر خدانخواستہ شکست ہوئی تو يَا رَسُولَ اللہ ! ہمیں اپنی کوئی پروا نہیں۔ہم مارے جائیں گے تو اور ہزاروں مل جائیں گے۔خود مدینہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اسلام کے فدائی ہیں اور وہ آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن کو آپ کے قریب پہنچنے نہیں دیں گے لیکن يَارَسُولَ الله ! اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو آپ دوبارہ دنیا کو نہیں مل سکتے۔پھر چونکہ وہ جانتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اسلام کو سنبھالنے والے حضرت ابوبکر ہیں اس لیے انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ دو تیز رفتار اونٹنیاں ہم نے باندھ دی ہیں۔اگر ہم مارے جائیں تو يَا رَسُولَ الله! ایک اونٹنی پر آپ بیٹھ جائیے اور ایک پر ابوبکر بیٹھ جائیں اور پھر ایڑی لگا کر فوراً مدینہ پہنچ جائیں۔وہاں ہمارے بھائی موجود ہیں جو اسلام کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس سے گریز کیا تو انہوں نے علیحدہ ایک اونچی جگہ بنادی اور کہا یا رَسُولَ اللہ ! آپ اسی مقام پر تشریف رکھیں تا کہ دشمن آسانی سے آپ تک نہ پہنچ سکے۔آپ نے اُس جگہ بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنی شروع کر دیں 2 اور کہا اے اللہ ! یہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے جو دنیا میں تیرا نام بلند کرنے کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔اگر یہ چھوٹی سی جماعت آج ہلاک ہو گئی تو دنیا میں تیرا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔حضرت ابو بکر نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس تضرع کے ساتھ دعائیں کرتے دیکھا تو انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ کیا کر رہے ہیں۔کیا خدا کے وعدے نہیں کہ وہ ہمیں فتح دے گا؟ آپ نے فرمایا بیشک خدا کے وعدے ہیں لیکن ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اس سے دعائیں کریں۔3 پس اگر کسی کو کوئی خواب آ جاتی ہے تو اس کی ذمہ داری کم نہیں ہو جاتی بلکہ زیادہ ہو جاتی ہے اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کہے کہ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ یہ خواب میں نے نہیں بنائی۔تو نے خود مجھے یہ خواب دکھائی تھی۔اب اگر یہ خواب پوری نہیں ہوتی تو تیرے ساتھ میں بھی جھوٹا ہو جاتا ہوں۔تو فضل کر اور اس خواب کو پورا فرما تاکہ میں