خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 149

خطبات محمود جلد نمبر 37 149 $1956 حرم کے اندر ایک آدمی مار دیا ہے۔جو لوگ حرم کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم کرتے رہتے تھے اُن کو جواب تو یہ ملنا چاہیے تھا کہ تم نے کب حرم کا احترام کیا ہے کہ تم ہم سے حرم کے احترام کا مطالبہ کرتے ہو۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جواب نہ دیا بلکہ فرمایا ہاں بے انصافی ہوئی ہے کیونکہ ممکن ہے اس خیال سے کہ حرم میں وہ محفوظ ہیں انہوں نے اپنے بچاؤ کی پوری کوشش نہ کی ہو۔اس لیے آپ لوگوں کو خون بہا دیا جائے گا۔چنانچہ آپ نے قتل کا وہ فدیہ جس کا عربوں میں رواج تھا اُس کے ورثاء کو ادا کیا۔Z اسی طرح ایک دفعہ میدانِ جنگ میں آپ نے ایک عورت کی لاش دیکھی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا یہ بہت بُری بات ہے۔ایک صحابی کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس وقت ایسی ناراضگی کی حالت میں تھے کہ میں نے کبھی آپ کو ایسی حالت میں نہیں دیکھا۔8 اسی طرح ایک اور واقعہ ہوا۔لڑائی ہو رہی تھی کہ کفار میں سے ایک شخص نے بلند آواز سے کہہ دیا کہ میں صابی بنتا ہوں۔اُس زمانہ میں مسلمانوں کو عام طور پر صابی کہا جاتا تھا جیسے بعض لوگ ہمیں قادیانی کہتے ہیں۔اب اگر کوئی نا واقف شخص وفات مسیح کا مسئلہ سمجھ کر احمدیت اختیار کر لے اور کہے کہ میں قادیانی ہو گیا ہوں تو ہم اُسے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تو ہماری جماعت میں سے نہیں۔مگر ایک صحابی نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور اُسے قتل کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ اُس صحابی پر سخت ناراض ہوئے اور مایا جب اُس نے توبہ کر لی تھی تو تم نے اُسے کیوں قتل کیا۔اُس صحابی نے عرض کیا يَارَسُولَ الله! وہ شخص ڈر کے مارے اسلام کا اظہار کر رہا تھا۔ورنہ حقیقتا وہ مسلمان نہیں تھا۔آپ نے فرمایا کیا تو نے اُس کا سینہ پھاڑ کر دیکھ لیا تھا کہ وہ ڈر کے مارے اسلام کا اظہار کر رہا ہے؟ وہ صحابی کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی کا مجھ پر اس قدر اثر ہوا کہ میں نے خواہش کی کہ کاش! میں آج مسلمان ہوا ہوتا، تا میرے سارے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے۔9 پس قو میں بعض اوقات دولت اور طاقت کے نشہ میں دوسروں پر ظلم بھی کرنے لگ