خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 148

$1956 148 خطبات محمود جلد نمبر 37 بعض غلطیاں رہ گئی ہیں اس لیے یہ قابل قبول نہیں کونسی معقول بات ہے۔یہ کانسٹی ٹیوشن خدا تعالیٰ کی تیار کردہ نہیں بلکہ انسانوں کی بنائی ہوئی ہے۔اور انسانوں کے کاموں میں بہر حال غلطیاں رہ جاتی ہیں۔اس لیے اس پر جھگڑنا اور شور مچانا بے معنی بات ہے۔میں اس موقع پر ایک بات اپنی جماعت سے بھی کہنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ سورۃ التین میں فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو اعلیٰ درجہ کی قوتیں دے کر دنیا میں بھیجا ہے۔لیکن بعض دفعہ اس میں ایسا بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے حصہ میں گر جاتا ہے۔5 یہی حال قوموں کا ہوتا ہے۔بعض اوقات جب قوموں پر غلامی کا دور ہوتا ہے تو وہ کہتی ہیں کہ کاش! ہمیں آزادی حاصل ہوتی تو ہم ملک کی خاطر کوئی اہم کام کرتیں۔لیکن جب انہیں آزادی ملتی ہے اور انہیں طاقت اور دولت میسر آ جاتی ہے تو ان کے اخلاق خراب ہو جاتے ہیں، وہ اپنوں اور ہمسایہ قوموں کا جانی اور مالی نقصان کرنے لگ جاتی ہیں اور قتل و غارت کو اپنا شیوہ بنا لیتی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ فرماتا ہے کہ بعض لوگوں کو جب ملک میں کوئی اقتدار حاصل ہوتا ہے تو وہ مظالم پر اُتر آتے ہیں اور اقتصادی اور نسلی طور پر دوسروں کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔6 پس جہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزادی دی ہے وہاں ہمارے لیے یہ خطرہ بھی ہے کہ ہم کہیں اس آزادی کا غلط استعمال نہ کرنے لگ جائیں اور بنی نوع انسان کو چاہے وہ ہمارے ملک کے ہوں یا دوسرے ممالک کے کسی مصیبت میں نہ ڈال دیں۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی صحابہ سے بعض غلطیاں ہوئیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب بھی ان کا علم ہواتی نے فوراً ان کا تدارک کر دیا۔مثلاً ایک دفعہ آپ نے کچھ صحابہ کو باہر خبر رسانی کے لیے بھجوایا۔دشمن کے کچھ آدمی اُن کو حرم کی حد میں مل گئے۔صحابہ نے اس خیال سے کہ اگر ہم نے ان کو زندہ چھوڑ دیا تو یہ جا کر مکہ والوں کو خبر دیں گے اور ہم مارے جائیں گے اُن پر حملہ کر دیا اور اُن میں سے ایک شخص لڑائی میں مارا گیا۔جب یہ خبریں دریافت کرنے والا قافلہ مدینہ واپس آیا تو پیچھے پیچھے مکہ والوں کی طرف سے بھی ایک وفد شکایت لے کر آ گیا کہ انہوں نے