خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 115

خطبات محمود جلد نمبر 37 115 $1956 ایک دوست نے لکھا ہے کہ بچوں کو بچپن سے ہی اس امر کی طرف توجہ دلانی چاہیے کہ انہوں نے بڑے ہو کر دین کی خدمت کرنی ہے اور اس غرض کے لیے ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ بچپن سے ہی بچوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے رہیں کہ بڑے ہو کر انہوں نے دین کا خادم بننا ہے۔میرے نزدیک ان کی یہ بات بالکل درست ہے اور اس پر دوستوں کو عمل کرنا چاہیے۔اس نوجوان نے اپنا تجربہ لکھا ہے کہ میں چھوٹا تھا تو میرے ماں باپ اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم اس انتظار میں ہیں کہ تو پڑھ لکھ کر بڑا افسر بنے۔میرے کان میں متواتر یہ بات پڑتی رہی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔میں بڑا ہوا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور میں ملازمت کے لیے کراچی پہنچ گیا۔اب دین کی خدمت کا خیال آتا ہے تو ساتھ ہی افسوس ہوتا ہے کہ یہ خیال اُس وقت کیوں نہ آیا جب میں دین کی خدمت کے لیے مفید وجود ہو سکتا تھا۔مگر یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ میرے والدین نے بچپن سے ہی میرے کانوں میں یہ بات ڈالی تھی کہ میں نے بڑے ہو کر افسر بنا ہے۔انہوں نے یہ بات میرے کانوں میں نہ ڈالی کہ میں نے بڑے ہو کر دین کی خدمت کرنی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ماں باپ کی تعلیم بڑے بھاری نتائج پیدا کرتی ہے۔مثل مشہور ہے کہ کوئی چور تھا۔وہ چوری کے لیے کسی گھر میں گیا۔اتفاقاً گھر والے جاگ رہے تھے۔انہوں نے اُس چور کو گھیر لیا۔چور کو ڈر پیدا ہوا کہ اگر میں پکڑا گیا تو مجھے جیل خانہ میں بھیج دیا جائے گا اور عدالت سے مجھے سزا ملے گی۔اس لیے بہتر ہے کہ محفوظ نکل جانے کی کوئی صورت پیدا کروں۔چنانچہ اُس نے گھر والوں سے لڑائی شروع کر دی جس میں ایک آدمی مارا گیا۔آخر وہ پکڑ لیا گیا اور عدالت سے اُسے پھانسی کی سزا ملی۔عام طور پر مشہور ہے معلوم نہیں ایسا ہوتا بھی ہے یا نہیں کہ جیل خانہ کا یہ قاعدہ ہے یا کسی زمانہ میں قاعدہ ہوا کرتا تھا کہ جب کسی کی پھانسی کا وقت قریب آئے تو جیل کے ملازم اُس سے دریافت کرتے ہیں کہ اگر کوئی خواہش ہو تو وہ بیان کر دے۔اگر وہ خواہش قانون کے لحاظ سے جائز ہوتی تو وہ اسے پورا کر دیتے۔اسی دستور کے ماتحت اُس چور سے بھی دریافت کیا گیا کہ اس کی کوئی خواہش ہو تو بیان کر دے۔اُس نے کہا میں اپنی ماں سے ملنا چاہتا ہوں۔جیل خانہ والوں نے اس کی