خطبات محمود (جلد 37) — Page 572
$1956 572 خطبات محمود جلد نمبر 37 ان پہاڑیوں میں سے گزریں گے اس لیے تم درّہ کے دونوں طرف پہاڑیوں پر اپنے تیرانداز بٹھا دو۔جب مسلمان حملہ آور ہوں تو دونوں طرف سے ان پر تیروں کی بارش کرو۔چنانچہ انہوں نے اس کے مشورہ کو مان لیا۔جب اسلامی لشکر حنین کے مقام پر پہنچا تو دشمن کے اکثر سپاہی پہاڑیوں کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئے اور کچھ سپاہی سامنے صف بند ہو کر کھڑے ہو گئے۔مسلمانوں نے یہ سمجھ کر کہ لشکر وہی ہے جو سامنے کھڑا ہے آگے بڑھ کر اُس پر حملہ کر دیا۔جب مسلمان آگے بڑھ چکے اور کمین گاہوں کے سپاہیوں نے سمجھا کہ اب ہم اچھی طرح مقابلہ کر ہیں تو اگلی کھڑی ہوئی فوج نے سامنے سے حملہ کر دیا اور پہلوؤں سے تیراندازوں نے بے تحاشا تیر برسانے شروع کر دیے۔یہ جنگ فتح مکہ کے قریب کے زمانہ میں ہی ہوئی تھی۔مکہ کے غیر مسلموں نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ انہیں اس جنگ میں شامل ہونے کی اجازت دے دیں۔ان کا خیال تھا کہ انہیں مسلمانوں کو اپنی بہادری دکھانے کا موقع مل جائے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔چنانچہ دو ہزار کے قریب مکہ کے غیر مسلم اسلامی لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے۔یہ لوگ چلے تو جی بہادری دکھانے کے لیے تھے لیکن جب دونوں پہلوؤں سے تیراندازوں نے تیروں سے حملہ کر دیا تو وہ بے تحاشا پیچھے بھاگے اور جب ہزاروں پر مشتمل لشکر اور اس کے گھوڑے اور اونٹ ان چنیدہ صحابہ میں سے گزرے جو ہر میدان میں ثابت قدم رہنے کے عادی تھے تو اُن کے گھوڑے بھی بھاگ پڑے اور لشکرِ اسلامی کے پاؤں اُکھڑ گئے۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ جب ان دو ہزار غیر مسلموں کے گھوڑے ہمارے گھوڑوں کے پاس سے گزرے تو وہ بھی ڈر گئے اور پیچھے کو بھاگ پڑے۔ہم نے انہیں روکنے کی بڑی کوشش کی مگر وہ بھاگتے ہی چلے جا رہے تھے اور ہماری ہر کوشش ناکام ہو گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف چند آدمیوں کے ساتھ میدانِ جنگ میں کھڑے تھے اور دائیں اور بائیں سے تیر برس رہے تھے۔صحابہ کو خطرہ پیدا ہوا کہ اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کی کیا صورت ہوگی لیکن وہ آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے۔دوہزار اونٹوں کے بھاگنے کی وجہ سے ان کی سواریاں اس قدر ڈر گئی تھیں کہ ان کے ہاتھ باگیں موڑتے موڑتے زخمی ہو گئے مگر اونٹ اور گھوڑے واپس لوٹنے