خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 548

$1956 548 خطبات محمود جلد نمبر 37 نہیں آ سکتے۔مگر ان کے خطوط ظاہر کرتے ہیں کہ ایک وقت میں وہ ہماری طرف آئے اور ان کے مضامین اور ان کی کمیٹیاں یہ بتاتی ہیں کہ دوسرے وقت میں وہ غیروں کی طرف گئے۔اس لیے وہ ايَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ پر عامل نہ رہے بلکہ انسان پر ان کی نظر ہوئی اور اس طرح وہ سورۃ فاتحہ کے بتائے ہوئے گر کے خلاف چل پڑے۔پس یہی بات ان کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے۔اگر وہ سچے ہوتے تو خواہ کچھ بھی ہوتا ہمارے پاس تو کوئی طاقت نہیں ہے لیکن اگر اُن کی حکومت سے بھی ٹکر ہو جاتی اور اُن کے سروں پر آرہ رکھ کر انہیں چیر یا جاتا تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہمیں اس جماعت اور اس کے اصولوں سے نفرت ہے۔اور اگر واقع میں ان کے دلوں میں ایمان ہوتا تو چاہے ان کے سروں پر آرہ رکھ کر انہیں چیر دیا جاتا وہ کبھی جماعت کے دشمنوں سے نہ کہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں بلکہ چاہے ان پر کتنا ہی ظلم کیان جاتا وہ بہادری کے ساتھ جیسا کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے نمونہ دکھایا تھا کھڑے رہتے اور کہتے مارنا ہے تو مار لو آخر تم ہمیں کتنی دفعہ مارلو گے۔1953ء میں فساد ہوا تو سیالکوٹ کی ایک مہاجر عورت کو لوگوں نے پکڑ لیا اور اسے مارنا شروع کیا۔اس نے کہا تم بیشک مجھے مار دو آخر تم کتنی دفعہ مجھے مارو گے۔میری ایک ہی جان ہے وہ لے لو لیکن میں نے صداقت کو قبول کیا ہے اس لیے میں اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔چنانچہ وہ بڑی بہادری کے ساتھ دشمنوں میں سے گزرتی ہوئی یہاں پہنچ گئی اور ہمیں آ کر اطلاعات دیں۔تو جو شخص واقع میں دل میں ایمان رکھتا ہے اُسے نہ کوئی لالچ راستہ سے ہٹاتی ہے اور نہ کوئی خوف راستہ سے ہٹاتا ہے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر ظلم کیا جاتا ہے یا ان کو ہم سے خوف ہے لیکن مومن تو خوف کی پروا نہیں کیا کرتا۔پھر غیر کی طرف ان کا جانا بتاتا ہے کہ یہ لوگ ان سے کسی فائدہ کا لالچ رکھتے ہیں۔اور مومن تو کسی لالچ کی پروا نہیں کیا کرتا۔چاہے اس کو دنیا کی بادشاہت ہی کیوں نہ مل جائے تب بھی وہ اس کی پروا نہیں کرتا اور صداقت پر قائم رہتا ہے۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پیشکش کفار مکہ نے ابوطالب کی معرفت کی وہ تو اُن کو نہیں ہوئی۔اپنی جماعت میں بھی ایک بے حقیقت شخص نے ان کو کہہ دیا