خطبات محمود (جلد 37) — Page 510
خطبات محمود جلد نمبر 37 510 $1956 یہ جواب تو شریفانہ تھا جو حضرت خلیفہ اول نے اس ڈپٹی کو دیا۔لیکن ایک جوا۔خلیفہ رجب دین صاحب نے بھی ایک مجسٹریٹ کو دیا تھا۔وہ خواجہ کمال الدین صاحب کے خسر تھے اور ان کی طبیعت بڑی تیز تھی۔ایک دفعہ وہ کسی شہادت کے سلسلہ میں عدالت میں گئے تو مجسٹریٹ جو ہندو تھا اُن سے کہنے لگا کہ لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب پلاؤ ، قورمہ اور کباب بھی کھا لیتے ہیں کیا یہ ٹھیک بات ہے؟ خلیفہ رجب دین صاحب نے جواب دیا کہ اسلام میں تو یہ سب چیزیں حلال ہیں اور ان کا کھانا جائز ہے لیکن اگر آپ کو یہ چیزیں پسند نہیں تو آپ بیشک پاخانہ کھا لیا کریں۔مجسٹریٹ کہنے لگا خلیفہ صاحب! آپ تو ناراض ہو گئے۔انہوں نے کہا میں ناراض تو نہیں ہوا میں نے تو صرف آپ کی بات کا جواب دیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جو وساوس اور شبہات کسی قوم میں راسخ ہو چکے ہوتے ہیں عام طور پر اُس قوم کے لوگ دوسروں سے بھی انہی خیالات کی توقع رکھتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ ہندو ڈپٹی تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے خاموش ہو گیا ہو گا۔ورنہ وہ ضرور پوچھتا کہ ہمارے ہاں تو بزرگوں کے دو دو سر اور چار چار ناک اور کئی کئی آنکھیں ہوتی ہیں مگر مرزا صاحب کا تو ایک ہی سر اور ایک ہی ناک اور دو ہی آنکھیں ہیں۔پھر وہ اور آگے بڑھتا اور کہتا کہ ہمارے ہنومان کی تو دم بھی تھی لیکن مرزا صاحب کی تو کوئی دم نہیں پھر یہ کیسے مصلح ہو گئے۔میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے اُسے شرم آ گئی اور اُس نے یہ سوالات نہ کیے ورنہ وہ یہ باتیں ضرور پوچھتا کیونکہ ہندوؤں میں اپنے بزرگوں کے متعلق اسی قسم کے خیالات پائے جاتے ہیں اور انہوں نے تصویری زبان میں اُن کے کئی کئی سر، کئی کئی آنکھیں، کئی کئی ناک اور کئی کئی ہاتھ دکھائے ہیں۔بہر حال جب ہندوؤں کے دل ان وساوس سے پاک ہو جائیں گے اور وہ کی روحانیت کا سبق سیکھنے کے لیے کسی عجیب الخلقت مخلوق کی جو ہاتھی اور سانپ اور تیندوے سے مشابہت رکھتی ہو تلاش نہیں کریں گے بلکہ انسانوں سے ہی سبق سیکھنے کے لیے تیار ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں بھی ہدایت دے دے گا اور وہی وقت ہو گا جب احمدیت ان کے (الفضل 16 نومبر 1956ء) دلوں میں قائم ہو جائے گی“۔1 : المائدة: 55