خطبات محمود (جلد 37) — Page 475
$1956 475 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس سے تم دوسرے لوگوں کو بھی کھلاؤ اور پلاؤ۔ہم نے تمہیں اس لیے نہیں بھیجا کہ کماؤ اور صرف اپنی ذات پر خرچ کرو بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ کماؤ اور لوگوں پر خرچ کرو۔اگر تم لوگوں خرچ کرو گے تو نتیجہ اچھا ہو گا۔لیکن خرچ کیسے کرو؟ اس کا طریق بھی ہم بتا دیتے ہیں کہ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ نیک باتیں لوگوں تک پہنچاؤ اور بُری باتوں سے ان کو روکو یعنی تبلیغ کرو۔یہ تبلیغ کا ہی مضمون ہے جس کو خدا تعالیٰ نے ایک نئی طرز میں بیان کر دیا ہے کیونکہ اگر ہم کسی کو اسلام سکھاتے ہیں تو اس میں ہمارا تو فائدہ نہیں اُسی کا فائدہ ہے۔پھر اگر ہم اپنا روپیہ اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ دوسروں کو اونچا کریں جیسے ہمارے نوجوان ویسٹ افریقہ اور ایسٹ افریقہ میں سکول اور کالج کھول رہے ہیں اور اُن کو پڑھا رہے ہیں تو اس میں بھی دوسروں کا ہی فائدہ ہے۔لیکن ہمیں اس طرح فائدہ پہنچتا ہے کہ ایک تو ہمیں ثواب مل جاتا ہے اور دوسرے وہ قوم ہماری محبت سے بھر جاتی ہے۔افریقن لوگوں کے لیے انگریزوں نے بڑا روپیہ خرچ کیا ہے لیکن ان کے وہ دشمن ہیں اور ہم پر جان دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انگریز نے اس لیے خرچ کیا تھا کہ بعد میں انہیں ٹوٹے اور ہم نے اس لیے خرچ کیا کہ انہیں ترقی ہو۔اس لیے ہماری محبت ان کے دلوں میں بڑھتی چلی جاتی ہے اور انگریزوں کی نفرت اُن کے دلوں میں بڑھتی جاتی ہے۔کیونکہ انگریز نے جتنا خرچ کیا اس نیت سے کیا کہ بعد میں ان سے فائدہ اُٹھائے اور ہم نے اُن پر جو کچھ خرچ کیا وہ اُن کے فائدہ کے لیے کیا ہے۔میں بیماری میں یورپ گیا تو افریقہ کی جماعتوں میں سے لیگوس کے لوگوں نے اپنا ایک رئیس ہوائی جہاز سے لندن میری خبر پوچھنے کے لیے بھیجوا دیا۔اُس میں میرا اتنا ادب اور احترام تھا کہ جب مجلس ہوتی تو وہ میرے پاؤں کے قریب آکر بیٹھ جاتا۔انگریزوں میں اُس کا بڑا احترام تھا۔جس مجلس میں انگریز آتے وہ اُسے اُٹھا کر میرے پاس بٹھانا چاہتے لیکن و میرے پیروں میں آ کر بیٹھ جاتا اور کہتا یہ میری عزت کی جگہ ہے میں یہاں بیٹھوں گا۔میں بیماری میں بعض دفعہ گھبرا کر باہر کرسی پر بیٹھ جاتا تھا۔وہ باہر سے پھر کر آتا، کسی بڑے آدمی یا وزیر سے مل کر آتا اور آکر میرے پاؤں کے قریب زمین پر بیٹھ جاتا۔میں اُسے اُٹھا کر کرسی۔وہ