خطبات محمود (جلد 37) — Page 451
451 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 یا نَعُوذُ بِاللهِ قرآنی وعدہ پورا نہیں ہو رہا۔قرآن کریم صاف کہتا ہے کہ فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَةٌ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الكَفِرِينَ یعنی وہ مسلمانوں سے کھلے طور پر وعدہ فرماتا ہے کہ ہر مرتد ہو جانے والے شخص کے مقابلہ میں ہم ایک قوم تمہارے اندر داخل کریں گے۔اور اللہ تعالیٰ سے اپنے وعدہ میں کون زیادہ سچا ہو سکتا ہے۔اگر علماء کے کہنے کے مطابق خدا تعالیٰ نے مرتدین کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے تو اس حکم کو پورا کرنے کی توفیق شاہ افغانستان کے سوا اور کسی کو نہیں ملی اور پھر خدا تعالیٰ کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا کیونکہ کوئی قوم مسلمانوں میں داخل نہیں ہوئی۔گویا خدا تعالیٰ نے جو بات مسلمانوں کے ذمہ لگائی تھی اُسے بھی وہ پورا نہ کر سکے اور جو بات خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ لگائی تھی وہ بھی اُس نے پوری نہ کی۔اگر وہ اپنا وعدہ پورا کرتا تو ایک ایک احمدی کے بدلہ میں دس دس آدمی اسلام میں داخل ہوتے کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان دس دس کفار پر بھاری ہوتا ہے۔گویا ہمیں کم سے کم دس دس افراد کی قوم ماننی پڑے گی بلکہ اسلامی جنگیں جو عیسائیوں سے ہوئیں اُن میں ایک ایک مسلمان ایک ایک ہزار عیسائیوں پر بھی بھاری ہوتا تھا۔اس طرح پانچ لاکھ احمدی نکل جاتے تو پچاس کروڑ غیر مذاہب والے مسلمان ہو جاتے اور اگر اتنی بڑی تعداد غیر مذاہب والوں کی مسلمان ہو جاتی تو مسلمان کے کو بارہ 4 ہو جاتے ہی اور وہ یکدم دُگنے ہو جاتے اور عیسائی ان سے بہت کم ہو جاتے۔بلکہ پچاس کروڑ سے بھی زیادہ غیر مذاہب والے اسلام میں داخل ہو سکتے تھے۔کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ بعض دفعہ دو دو ہزار کے اسلامی لشکر نے لاکھ لاکھ دشمنوں کا مقابلہ کیا اور ان پر فتح پائی ہے۔ایک تاریخی واقعہ ہے کہ ایک دفعہ رومی لشکر کی تعداد ساٹھ ہزار تھی اور اس کے مقابلہ میں صرف تمہیں مسلمان تھے اور انہوں نے رومی لشکر کو بھگا دیا۔اس اسلامی لشکر میں ابو جہل کے بیٹے عکرمہ بھی شامل تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کے لیے بڑی بھاری قربانیاں کی ہیں۔پھر حضرت خالد بن ولید بھی اس لشکر میں شامل تھے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ اس موقع پر اصل رومی لشکر کی تعداد بارہ لاکھ تھی اور عیسائی مؤرخ اس کی تائید کرتے ہیں۔لیکن ساٹھ ہزار کا لشکر وہ ہے جو آگے آیا تھا تا کہ وہ اسلامی بدرقوں 5 کو روکے۔اس لشکر کے