خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 452

$1956 452 خطبات محمود جلد نمبر 37 کمانڈر انچیف سے روم کے بادشاہ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ مسلمان لشکر پر فتح پائے گا تو وہ اسے اپنی لڑکی کا رشتہ دے دے گا اور آدھا ملک اُسے بانٹ دے گا۔یہ کتنا بڑا لالچ تھا جو اس کمانڈر کو دیا گیا لیکن اس کے باوجود تمیں آدمیوں نے اُسے بھگا دیا۔انہوں نے قلب لشکر پر حملہ کر کے کمانڈر کو قتل کر دیا اور اُس کے قتل کی وجہ سے سارے لشکر میں بھا گڑ 6 بچ گئی اور وہ تتر بتر ہو گئے۔وقت غرض ایک ایک مسلمان نے بعض دفعہ دو دو ہزار کفار کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی تو اب پانچ لاکھ کو دو ہزار سے ضرب دو تو ایک ارب بن جاتا ہے۔گویا مسلمانوں کی اس جتنی تعداد پائی جاتی ہے اس میں ایک ارب کا اضافہ ہو جاتا۔عام طور پر مسلمان کہتے ہیں کہ دنیا میں ان کی آبادی ساٹھ کروڑ ہے لیکن عیسائی مؤرخین چالیس یا پینتالیس کروڑ کہتے ہیں۔اگر چہ یہ بات جغرافیہ اور حساب کی رُو سے غلط ہے لیکن فرض کرو مسلمانوں کی آبادی پچاس کروڑ ہے تو اگر پانچ لاکھ افراد کے احمدی ہو جانے کے بدلہ میں ایک ارب لوگ اسلام میں داخل ہو جاتے تو مسلمان موجودہ تعداد سے تین گنا زیادہ ہو جاتے۔یعنی ایک ارب پچاس کروڑ ہو جاتے۔اب یا تو یہ کہو کہ قرآن کریم نے نَعُوذُ بِاللهِ ہم سے دھوکا کیا ہے اور یا یہ سمجھو کہ احمدیوں کو مرتد قرار دینے والے غلطی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو سچا مسلمان کہنے والے غلطی کرتے ہیں۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ سچے مومنوں میں سے حقیقی مرتد ہونے والوں کے بدلہ میں فی شخص ایک قوم قرآنی وعدہ کے مطابق مسلمانوں میں داخل نہیں ہوئی اور جو تھوڑے بہت ہوئے بھی ہیں وہ سچے مومنوں کے ذریعے نہیں ہوئے بلکہ نام نہاد مرتدوں کے ذریعہ سے ہوئے ہیں۔اگر ان نام نہاد مرتدوں کو قتل کر دیا جاتا تو اتنے لوگ بھی مسلمان نہ ہوتے۔بہرحال اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر تم میں سے ایک شخص بھی نظام دینی سے الگ ہوگا تو وہ ایک قوم کو اُس کی جگہ لے آئے گا۔اگر مسلمان قرآن کریم پر غور کرتے اور اس آیت کو سچا سمجھتے تو وہ سمجھ لیتے کہ احمدیوں کو مارنے کی کیا ضرورت ہے۔ہم تو ایک شخص ماریں گے لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ہم ایک ایک کے بدلے ایک ایک قوم لائیں گے۔گویا اگر ایک شخص احمدی ہوتا تو اللہ تعالیٰ اُس کے بدلہ میں انہیں ایک قوم دیتا جو اس سے بہر حال بہتر ہوتی۔