خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 422

$1956 422 خطبات محمود جلد نمبر 37 موجود ہے۔مثلاً آج ہی میں تفسیری نوٹ لکھا رہا تھا کہ وہاں یہ ذکر آیا کہ حضرت موسی علیہ السلام نے سونٹا پھینکا تو وہ ایک چھوٹے سانپ کی طرح دوڑنے لگ گیا 1 مگر دوسری جگہ ذکر آتا ہے کہ وہ ایک عام سانپ کی طرح چلنے لگا 2 اور تیسری جگہ یہ لکھا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے سونٹا پھینکا تو وہ ایک اثر دہا بن گیا۔3 ان تینوں مقامات پر سانپ کے لیے مختلف الفاظ کیوں استعمال کیے گئے ہیں؟ کیوں اسے ایک جگہ حَيَّةٌ اور دوسری جگہ جان اور تیسری جگہ شُعْبَانُ کہا گیا ہے؟ میں اس کا جواب لکھوا رہا تھا کہ مجھے یاد آیا بچپن میں میں نے ایک مصری عالم کی کتاب پڑھی تھی اُس میں اسی اعتراض کا جو جواب دیا گیا تھا وہ بالکل درست تھا۔اور وہ جواب یہ تھا کہ جان چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں ، حَيَّةٌ چھوٹے اور بڑے دونوں قسم کے سانپوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور تعبان بڑے سانپ کے لیے بولا جاتا ہے۔ان تینوں الفاظ کے استعمال سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں تضاد پایا جاتا ہے لیکن غور سے دیکھائی جائے تو کوئی تضاد نہیں۔جہاں قرآن کریم نے جان کا لفظ استعمال کیا ہے وہاں اس سانپ کی تیزی کا ذکر ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ جب حضرت موسی علیہ السلام نے سونا پھینکا تو وہ چھوٹے سانپ کی طرح تیزی سے دوڑ نے لگ پڑا۔وہاں اس کی شکل کا ذکر نہیں کہ وہ چھوٹا تھا۔یا بڑا۔بلکہ یہ بتانا مدنظر ہے کہ چھوٹے سانپ کی طرح اُس میں تیزی پائی جاتی تھی۔لیکن جہاں ت ، ثُعبان کا لفظ آیا ہے وہ آیات پڑھی جائیں تو معلوم ہوگا کہ وہ واقعہ فرعون کے سامنے ہوا ہے اور فرعون کو چونکہ ڈرانا مقصود تھا اس لیے اسے شُعبان کی شکل میں سونٹا دکھائی دیا اور حَيَّةٌ کا لفظ چھوٹے اور بڑے دونوں قسم کے سانپوں کے لیے بولا جاتا ہے۔پس قرآنی آیات میں کوئی تضاد نہ رہا۔اب دیکھ لو اس اعتراض کا جواب میں نے خود ایجاد نہیں کیا اور نہ ہی ہی میں نے کسی احمدی عالم یا حضرت خلیفہ المسیح الاول سے سیکھا ہے بلکہ میں نے یہ جواب ایک مصری عالم کی کتاب میں پڑھا جو بچپن میں میری نظر سے گزری تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے معاً بعد 1909ء یا 1910 ء کی بات ہے جبکہ میری عمر کوئی اکیس برس کی تھی کہ اُس وقت میں نے ایک کتاب قصص القرآن منگوائی۔اس کتاب میں مصنف نے یہ ثابت کیا ہے کہ واقعات کے بیان میں احادیث میں بیشک بعض