خطبات محمود (جلد 37) — Page 405
$1956 405 خطبات محمود جلد نمبر 37 مانگ سکتا ہوں۔تمہارا آقا کہہ سکتا تھا کہ میں تو سکھ ہوں میں مسلمان ہونے کی دعا کس طرح مانگ سکتا ہوں۔اگر میں یہ دعا کروں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ پہلے اپنے مذہب کی سچائی پر شک کروں اور میں اس کے لیے تیار نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ میرا مذہب ہی سچا ہے۔اور مذہب کے قبول کرنے کی ضرورت نہیں۔پس اگر اس میں مسلمان ہونے کی دعا سکھلائی جاتی تو تمہیں اس پر اعتراض ہو سکتا تھا۔لیکن اس میں دعا یہ سکھائی گئی ہے الہی! مجھے سیدھا راستہ دکھا۔اور سیدھے راستہ کی دعا ہر شخص کر سکتا ہے اور ہر شخص اس کا محتاج ہوتا ہے۔تمہارے آقا کو سکھ ہونے کے باوجود ضرورت ہے کہ اُسے سیدھا راستہ نظر آئے اور تمہیں ہندو ہونے کے باوجود ضرورت ہے کہ تمہیں سیدھا راستہ نظر آئے۔پس یہ دعا ایک بڑی جامع دعا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک بڑا زبردست ثبوت ہے کیونکہ اس میں یہ دعا نہیں سکھائی گئی کہ الہی ! ہمیں اسلام کا راستہ دکھا بلکہ یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ الہی ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔اس سے معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین تھا کہ میں ہی سیدھے راستہ پر ہوں۔اور جب کوئی سیدھے راستہ کی دعا مانگے گا تو ضرور اللہ تعالیٰ اسے میرے پاس بھیجے گا۔غرض میں نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کو بلایا اور اُسے کہا کہ چونکہ یہ عربی نہیں جانتے اس لیے اس دعا کا ترجمہ انہیں پنجابی میں لکھ کر دے دو۔چنانچہ انہیں اس کا پنجابی ترجمہ لکھ کر دے دیا گیا۔اور میں نے کہا کہ روزانہ سوتے وقت آپ لوگ یہ دعا پڑھا کریں۔مگر جس وقت یہ دعا کریں اُس وقت اپنے دل میں اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کریں کہ اے خدا! تو ہمیں کہیں بھی ہدایت دکھائے ہم اُسے قبول کر لیں گے۔اگر اس دعا کے کرتے وقت آپ نے دل میں یہ فیصلہ نہ کیا کہ خدا جو بھی ہدایت دے گا ہم اُسے قبول کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو ٹور نہیں دکھائے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ مداری نہیں۔وہ فضول کھیلیں نہیں دکھایا کرتا۔ہاں! اگر آپ کے دل کی کمزوری کی وجہ سے بعد میں آپ سے کچھ غلطی ہو جائے تو اور بات ہے۔چور چوری سے تو بہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے قبول کر لیتا ہے حالانکہ دوسرے دن وہ تو بہ توڑ کے پھر چوری کرنے لگ جاتا ہے۔پس اگر نفس میں کوئی کمزوری ہوئی تو اللہ تعالیٰ اس کی پروا نہیں۔